جسٹس سدرشن ریڈی کو تلنگانہ سے راجیہ سبھا کی نشست کا امکان

   

اپریل میں راجیہ سبھا کی دو نشستیں خالی ہوں گی

حیدرآباد۔ 15 فروری (سیاست نیوز) کانگریس پارٹی میں اپریل میں خالی ہونے والی راجیہ سبھا کی دو نشستوں پر امیدواروں کے انتخاب کے سلسلہ میں سرگرمیوں کا آغاز ہوچکا ہے۔ بی آر ایس کے رکن راجیہ سبھا کے آر سریش ریڈی اور کانگریس ابھیشیک منوسنگھوی کی میعاد اپریل میں ختم ہو رہی ہے۔ ان نشستوں پر پارٹی امیدواروں کے انتخاب کے لئے صدر کانگریس ملکارجن کھرگے اور راہول گاندھی سے ابتدائی دور کی مشاورت ہوچکی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی، صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ اور اے آئی سی سی انچارج میناکشی نٹراجن سے ہائی کمان نے راجیہ سبھا کی دونوں نشستوں کے بارے میں رائے حاصل کی۔ باوثوق ذرائع کے مطابق نائب صدر جمہوریہ کے عہدہ کے لئے انڈیا الائنس کے امیدوار کے طور پر مقابلہ کرنے والے جسٹس بی سدرشن ریڈی کو راجیہ سبھا کے لئے نامزد کیا جاسکتا ہے۔ سدرشن ریڈی کا تعلق تلنگانہ سے ہے اور ریاست میں تحفظات پر عمل آوری کے سلسلہ میں انہوں نے حکومت کی رہنمائی کی ہے۔ جسٹس بی سدرشن ریڈی کے انتخاب کے ذریعہ کانگریس پارٹی راجیہ سبھا میں تلنگانہ سے ایک ماہر قانون کو نامزد کرنے کا سہرا اپنے سر لینا چاہتی ہے۔ ذرائع کے مطابق دوسری نشست پر سپریم کورٹ کے نامور وکیل ابھیشیک منوسنگھوی کو دوسری مرتبہ نامزد کیا جائے گا۔ تلنگانہ سے متعلق تمام مقدمات میں ابھیشیک منوسنگھوی سپریم کورٹ میں حکومت کے وکیل ہیں۔ راجیہ سبھا کی نشستوں کے لئے پارٹی کے بعض دیگر قائدین نے بھی اپنی دعویداری پیش کی ہے جن میں حکومت کے مشیر اعلیٰ ڈاکٹر کے کیشو راؤ اور چیف منسٹر کے مشیر وی نریندر ریڈی شامل ہیں۔ دوسری طرف ریاستی وزیر اقلیتی بہبود محمد اظہر الدین کو اپریل تک قانون ساز کونسل کے لئے منتخب کرنا ضروری ہے۔ جوبلی ہلز ضمنی چناؤ کے دوران 31 اکتوبر 2025 کو انہیں کابینہ میں شامل کیا گیا تھا۔ 6 ماہ میں انہیں اسمبلی یا کونسل کا رکن منتخب کیا جانا ضروری ہے۔ 30 اپریل تک کونسل یا اسمبلی کے لئے منتخب نہ ہونے پر انہیں دوبارہ حلف دلانا پڑے گا جس کے تحت وہ مزید 6 ماہ تک وزارت میں برقرار رہ سکتے ہیں۔1
سپریم کورٹ میں قانون ساز کونسل کے ارکان کے مسئلہ پر مقدمہ کی آئندہ سماعت 19 مارچ کو مقرر ہے۔ بتایا جاتا ہیکہ حکومت سپریم کورٹ کے قطعی موقف کی بنیاد پر اظہر الدین کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرے گی۔ گورنر جشنودیو ورما کو اظہر الدین اور کودنڈا رام کے ناموں کی سفارش کی گئی لیکن سپریم کورٹ کے مقدمہ کے باعث انہوں نے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کانگریس کے کسی ایک ایم ایل سی کا استعفی حاصل کرتے ہوئے اظہر الدین کو ان کی جگہ نامزد کئے جانے پر بھی پارٹی غور کررہی ہے۔ اس کا انحصار سپریم کورٹ کے فیصلہ پر رہے گا۔ 1