جسٹس نرسمہا ریڈی تحقیقاتی کمیشن سے دستبردار

   

عدلیہ کے وقار کی برقراری کیلئے فیصلہ
حیدرآباد 16 جولائی (سیاست نیوز) سپریم کورٹ کے فیصلہ کے فوری بعد جسٹس ایل نرسمہا ریڈی نے برقی خریدی معاہدات کی جانچ سے متعلق تحقیقاتی کمیشن سے علیحدگی اختیار کرلی۔ چیف جسٹس کی زیرقیادت بنچ کو جسٹس ایل نرسمہا ریڈی نے اپنے فیصلے سے واقف کرایا اور کمیشن کی جانب سے ایک نوٹ جاری کیا گیا۔ پٹنہ ہائیکورٹ کے سابق چیف جسٹس ایل نرسمہا ریڈی نے اپنے موقف کی وضاحت کی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ میری جانب سے پریس بریفنگ کے بارے میں سپریم کورٹ کے تاثرات کے بارے میں اطلاع ملی۔ اِس سلسلہ میں مَیں وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ میرا آفس بی آر کے آر کے بھون کی ساتویں منزل پر کام کررہا ہے۔ جسٹس پی چندرگھوش کمیشن کا آفس آٹھویں منزل پر ہے۔ ہر دوسرے دن جسٹس چندرگھوش کمیشن کی جانب سے پریس بریفنگ کی جاتی ہے اور رپورٹرس میرے آفس کا بھی دورہ کرتے ہیں۔ میری جانب سے جب کبھی کوئی بریفنگ نہ ہو تو رپورٹرس کمیشن کے بارے میں اپنے طور پر خبریں شائع کررہے ہیں جو اُن کے اپنے خیالات ہیں۔ اِس صورتحال کو ختم کرنے کے لئے میں نے پریس کانفرنس کی اور رپورٹرس کو تحقیقات کے طریقہ کار سے واقف کرایا۔ جسٹس نرسمہا ریڈی نے مزید کہاکہ کمیشن کی سماعت عام طور پر کھلے عام کی جاتی ہے لہذا کمیشن نے نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے عوام سے نمائندگیاں وصول کی ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ کسی بھی جج یا سابق جج کو تحقیقات کے بارے میں غیر جانبدار ہونے سے متعلق واضح اُصول موجود ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ عدلیہ کے وقار کو برقرار رکھنے کیلئے وہ کمیشن میں برقرار رہنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ جسٹس نرسمہا ریڈی نے مکتوب کے ذریعہ کمیشن کی صدارت سے دستبرداری اختیار کرلی۔ باوثوق ذرائع کے مطابق حکومت کسی بھی وقت کسی اور ریٹائرڈ جج کو کمیشن کا سربراہ مقرر کرے گی۔ اِس سلسلہ میں چیف جسٹس تلنگانہ ہائیکورٹ جسٹس الوک ارادھے کو بعض ناموں کی سفارش کی گئی ہے اور اُن کی منظوری کے بعد احکامات تقرر جاری کئے جائیں گے۔ دوسری طرف تلنگانہ حکومت کا موقف ہے کہ سپریم کورٹ نے تحقیقاتی کمیشن کو برقرار رکھنے کی اجازت دیتے ہوئے حکومت کے موقف کی تائید کی ہے۔ 1