نئی دہلی 02 فروری:(ایجنسیز)تعلیمی نظام میں بدعنوانی کے خلاف ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے الہ آباد ہائی کورٹ نے جعلی اور من گھڑت سرٹیفکیٹس کی بنیاد پر ملازمت حاصل کرنے والے اسسٹنٹ اساتذہ کے خلاف سخت حکم جاری کیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ایسے تمام افراد سے وصول کی گئی تنخواہیں واپس لی جائیں اور غیر قانونی تقرریاں فوری طور پر منسوخ کی جائیں۔جسٹس منجو رانی چوہان کی سنگل بنچ نے سماعت کے دوران سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جعلی تقرریاں نہ صرف سرکاری خزانے پر بوجھ ہیں بلکہ طلبہ کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کے مترادف بھی ہیں۔ عدالت نے اس رجحان کوپریشان کن قرار دیتے ہوئے ریاستی حکومت کو رِٹ آف مینڈمس جاری کیا اور پورے صوبے میں جامع جانچ کا حکم دیا۔ہائی کورٹ نے پرنسپل سکریٹری، بیسک ایجوکیشن کو ہدایت دی کہ چھ ماہ کے اندر ریاست بھر میں تمام مشتبہ تقرریوں کی جانچ مکمل کی جائے۔ عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس معاملے میں ملی بھگت کرنے والے افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ اس نوعیت کی بدعنوانی کی روک تھام ممکن ہو سکے۔سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ کئی تعلیمی اداروں میں تقرری کے عمل میں سنگین بے ضابطگیاں پائی گئی ہیں۔ عدالت نے کہا کہ تعلیم جیسے حساس شعبے میں شفافیت ناگزیر ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی جعل سازی پورے معاشرے کیلئے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ عدالت کے مطابق افسران کی لاپروائی نے نہ صرف دھوکہ دہی کو فروغ دیا بلکہ تعلیمی ڈھانچے کی بنیادوں کو بھی کمزور کیا ہے۔یہ ہدایات گریما سنگھ کی جانب سے دائر رِٹ عرضی پر سماعت کے دوران جاری کی گئیں۔ عرضی گزار نے بیسک شکشا ادھیکاری دیوریا کے اس حکم کو چیلنج کیا تھا جس کے تحت ان کی تقرری منسوخ کی گئی تھی۔ جانچ میں ان کے تعلیمی اور رہائشی دستاویزات جعلی پائے گئے تھے۔عرضی گزار کا مؤقف تھا کہ انہیں جولائی 2010 میں اسسٹنٹ ٹیچر مقرر کیا گیا تھا اور انہوں نے تقریباً پندرہ برس تک خدمات انجام دیں، تاہم عدالت نے واضح کیا کہ جعلی دستاویزات کی بنیاد پر حاصل کی گئی ملازمت کو کسی صورت قانونی تحفظ حاصل نہیں ہو سکتا۔ عدالت نے کہا کہ طلبہ کے مفادات کا تحفظ عدلیہ کی اولین ترجیح ہے اور قانون کی بالادستی برقرار رکھنے کیلئے سخت اقدامات ناگزیر ہیں۔قانونی ماہرین کے مطابق اس فیصلے کو تعلیمی نظام میں اصلاحات کی جانب ایک مضبوط قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس عدالتی حکم سے نہ صرف مالی بدعنوانی پر لگام لگے گی بلکہ سرکاری اداروں میں جوابدہی کا نظام بھی مزید مضبوط ہوگا۔