ظہیرآباد میں بینک مینجر اور کیاشیئر گرفتار، ڈی ایس پی شنکر راجو کا انکشاف
ظہیرآباد۔ ظہیر آباد کے ایک بینک کے دو اہم عہدوں پر فائز ملازمین نے ملی بھگت سے بینک کے کھاتے داروں کی جعلی دستخطوں کے ووچرس کے ذریعہ بینک کے 94 لاکھ روپیوں کا غبن کرتے ہوئے اسے اپنے ذاتی اغراض کے لئے استعمال کیا ہے۔ اس امر کا انکشاف ڈی ایس پی ظہیرآباد شنکر راجو نے یہاں پولیس اسٹیشن ظہیرآباد میں طلب کردہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ معاملہ ظہیرآباد پولیس اسٹیشن میں تحقیقات کے لئے اس وقت سامنے آیا جب کہ بینک آف بروڈہ ریجنل آفس تلنگانہ جنوب حیدرآباد کے اسسٹنٹ جنرل مینجر کورا گنٹی وجئے راجو نے اس ضمن میں ایک شکایت درج کراتے ہوئے شبہ ظاہر کیا تھا کہ بینک آف بروڈہ ظہیرآباد برانچ کے مینجر آئی جگدیش اور اسی بینک کے کیاشیئر اے راجو نے آپسی تال میل کے ساتھ بینک کے کھاتے داروں کی جعلی دستخطوں کے ووچرس کے ذریعہ 94 لاکھ روپیوں کا غبن کیا ہے اور یہ ساری کارروائی 11 اپریل 2022 سے لے کر 18 اپریل 2022 تک انجام دی گئی ہے۔ اس خصوص میں سب انسپکٹر پولیس اسٹیشن ظہیرآباد ٹاؤن کے سری کانت نے مختلف دفعات مقدمہ درج کرتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کردیا اور تفتیش کے دوران دستاویزی شواہد اکٹھا کرنے کے علاوہ گواہوں کے بیانات بھی قلمبند کئے تو پتہ چلا کہ مذکورہ روپیوں کے غبن میں بینک مینجر اور بینک کیاشیئر ملوث ہیں۔ پولیس نے مذکورہ دونوں خاطی عہدیداروں کو گرفتار کرتے ہوئے انکے قبضہ سے 24 لاکھ 3 ہزار روپے کی رقم کے علاوہ دو موبائیل فون اور کچھ ڈیبٹ کارڈس بھی برآمد کرلئے۔ ڈی ایس پی شنکر راجو نے مزید بتایا کہ شواہد کے طور پر مذکورہ بینک کے چند ایک کھاتوں کو منجمد کرکے عدالت میں پیش کیا جارہا ہے۔ انہوںنے یقین دلایا کہ ملزمین سے ماباقی رقم برآمد کرلی جائے گی۔ اس موقع پر ملزمین کو میڈیا کے روبرو پیش کیا گیا تھا۔ پریس کانفرنس میں سرکل انسپکٹر ظہیر آباد ٹوٹا بھوپتی، ایس آئی سری کانت کے علاوہ دیگر کانسٹبلس موجود تھے۔