گچی باولی اراضی تنازعہ ، مرکزی وزیر کشن ریڈی ، سابق ریاستی وزیر جگدیش ریڈی نے بھی ڈیلیٹ کیا
حیدرآباد ۔ 9 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز) : کانچا گچی باولی اراضیات کے تنازعات کے دوران سوشیل میڈیا میں ہرنوں کے دوڑنے موروں کے رونے سے متعلق تصاویر اور ویڈیوز پوسٹ کرنے والے ہزاروں افراد فی الحال انہیں ڈیلیٹ کررہے ہیں ۔ چند لوگ ماحولیات کو تباہ کرنے کے نام پر مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جعلی تصاویر اور ویڈیوز تیار کی تھی ۔ اس کو حقیقی تسلیم کرتے ہوئے چند اہم شخصیات کے علاوہ بی آر ایس کے ہزاروں کارکنوں اور دوسرے چھوٹے بڑے قائدین ، ماہر ماحولیات نے ان ویڈیوز اور تصاویر کو شیئر کیا ہے ۔ یہ معاملہ دہلی تک بھی پہونچ گیا ۔ وہاں پر بھی اس کو ری ٹوئیٹ کیا گیا ۔ اس جعلی ویڈیوز اور تصاویر سے حکومت کی نیک نامی متاثر ہوئی ہے ۔ جس پر چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے سخت برہمی کا اظہار کیا ۔ اعلیٰ عہدیداروں کا اجلاس طلب کرتے ہوئے جعلی ویڈیوز اور تصاویر شیئر کرنے والوں اور ان کی تشہیر کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے پر زور دیا ہے ۔ جس کے بعد ریاست کے مختلف اضلاع ، کمشنریٹس کے علاوہ سائبر سیکوریٹی بیورو عہدیداروں نے کارروائی کا آغاز کردیا ہے ۔ اس کے علاوہ چند اضلاع میں کانگریس قائدین نے ان نقلی ویڈیوز اور تصاویر کے خلاف مقامی پولیس اسٹیشنس میں مقدمات درج کروایا ہے ۔ جعلی تصاویر اور ویڈیوز کی تیار کرنے کے معاملے میں سائبر کرائم پولیس عہدیداروں کو اہم سراغ دستیاب ہونے کی اطلاعات وصول ہوئی ہیں ۔ پولیس نے بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر کے بشمول اس پارٹی کے سوشیل میڈیا کے ذمہ داروں ایم کرشنک ، کے دلیپ اور دوسروں کو نوٹس جاری کی ہے ۔ ان میں کرشنک نے ان پر دائر کردہ چار ایف آئی آر کو منسوخ کرنے کے لیے عدلیہ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے مگر انہیں راحت نہیں ملی ۔ تحقیقات میں پولیس سے تعاون کرنے کی عدلیہ نے کرشنک کو ہدایت دی ہے ۔ دوسری طرف اس طرح کے سوشیل میڈیا میں پوسٹ کرنے والے مرکزی وزیر جی کشن ریڈی اور سابق ریاستی وزیر جگدیش ریڈی نے انہیں ڈیلیٹ کردیا جس کے بعد ہزاروں سوشیل میڈیا کھاتوں سے جعلی ویڈیوز اور تصاویر ڈیلیٹ ہونے کی سائبر سیکوریٹی عہدیدار نشاندہی کررہے ہیں اور اس کی اطلاعات حکومت کو دے رہے ہیں ۔۔ 2