اراضی ناجائز قبضوں اور کچرا پھینکنے کی نذر
حیدرآباد: جل پلی جھیل سے متصل اراضی پر ایک پارک بنانے کی تجویز کو حکومت کی منظوری کے باوجود ابھی تک اس میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ہے اور اس کے لئے مختص کردہ کئی ایکرس اراضی پر کچرا ڈالا جارہا ہے اور یہ کچرا ڈالنے کی جگہ بن گئی ہے۔ اطراف کے علاقوں کے عوام کی جانب سے یہاں کچرا ڈالا جارہا ہے جس کی وجہ کچرے کے انبار ہوگئے ہیں۔
راجندر نگر اور جل پلی کی سرحدوں کے ساتھ یہ خوبصورت جھیل جو کئی کلو میٹرس تک پھیلی ہوئی ہے خراب حالت میں ہے اور اس پر توجہ نہیں دی جارہی ہے ، اور غیر قانونی قبضوں سے اس کا رقبہ بڑی حد تک سکڑ گیا ہے۔ فکر مند شہریوں کی جانب سے اس سلسلہ میں نمائندگی کرنے اور توجہ دلانے کے بعد عہدیداروں نے فینسنگ کا کام شروع کیا تاہم اب بھی اس جھیل کے بڑے رقبہ کو لینڈ گرابرس سے خطرہ ہے۔
ایک مقامی شخص انور نے کہا کہ’’ یہ جگہ جل پلی میونسپلٹی کے تحت آتی ہے اس علاقہ میں لاریوں اور ٹرالیز سے کچرے کے لوڈس لاکر ڈالے جارہے ہیں۔ جی ایچ ایم سی کے عہدیدار اس سے واقف ہیں لیکن اس کو روکنے کے لئے کارروائی نہیں کررہے ہیں۔ جلتے ہوئے کچرے سے نکلنے والے کثیف دھوئیں سے ماحول خراب ہورہا ہے۔ گذشتہ سال جب یہ مسئلہ سنگین نوعیت کا ہوگیا تھا تو عہدیداروں نے صرف عارضی ریلیف فراہم کیا تھا۔‘‘
ربط پیدا کرنے پر جل پلی میونسپلٹی چیرمین عبداللہ سعدی نے کہا کہ ’’ تقریباً دو سال پہلے کوئی 200 کروڑ روپئے مصارف سے جل پلی جھیل کے پاس 191 ایکرس پر پارک بنانے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ لیکن چند لوگوں نے اس پر اعتراضات کیا اور اس زمین کے مالک ہونے کا دعویٰ کیا۔ یہ تجویز اب بھی ایچ ایم ڈی اے کے پاس زیرالتواء ہے۔ ‘‘ جہاں تک اس مقام پر کچرا ڈالنے کی بات ہے اس سلسلہ میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے چند لوگوں کے خلاف پہاڑی شریف پولیس اسٹیشن میں دو کیس بھی درج کروائے ہیں۔ ہم جلد ہی اس جگہ پر کچرا ڈالنے والوں کے خلاف کارروائی کرنا شروع کریں گے۔
ہم نے اس جگہ کے قریب سی سی ٹی وی کیمرے لگانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ کچرا ڈالنے والی لاریوں اور ٹرالیز پر نظر رکھی جائے اور اس طرح کی خلاف ورزیوں پر جرمانہ عائد کیا جائے۔
جل پلی میونسپلٹی کے اسسٹنٹ انجینئر این کشٹیا نے کہا کہ ’’ میں جل پلی جھیل میں اس طرح کی کسی تجویز سے واقف نہیں ہوں لیکن 3.5 ایکر راضی پر میاواکی گارڈن بنانے کی تجویز ہے۔ ہم نے اس سلسلہ میں تجویز پیش کردی ہے اور کمیٹی سے اس کے لئے منظوری کا انتظار کررہے ہیں۔‘‘