جماعت کی بریانی کھلاؤ اور تائید حاصل کرو کی پالیسی

   

ائمہ مساجد اور علماء کیلئے نشست

حیدرآباد۔27۔اکٹوبر(سیاست نیوز) اللہ نعمتوں کی ناقدری پر انہیں چھین لیتا ہے اور مجلس اور نقیب ملت بیرسٹراسدالدین اویسی شہر حیدرآباد کے مسلمانوں کے لئے اللہ کی نعمت ہیں اسی لئے مسلمانوں کو اس کی ناقدری سے گریز کرنا چاہئے ۔اس طرح کے خطابات اور مسلمانوں کے اجلاسوں کا سلسلہ اب شہر میں شروع ہوچکا ہے۔ انتخابات کے دوران اتحاد امت وقت کا تقاضہ ہے۔شہر حیدرآباد میں سیاسی قائدین اب امت کے اتحاد اور اختلاف رائے رکھنے والوں کو منافق قرار دینے کے لئے اجلاسوں کا انعقاد عمل میں لاتے ہوئے معصوم بھولے بھالے اور دیندار شخصیات کو اپنے مقصد کے حصول کا ذریعہ بنانے لگے ہیں اور انتخابات میں مسلمانوں کو علماء و اکابرین کے اجلاس کی دہائی اور اجلاس میں شریک آئمہ مساجد و علماء کو یہ باور کروایا جانے لگا ہے کہ اگر ان کی ’جماعت‘ کے امیدواروں کو شکست ہوتی ہے تو ایسی صورت میں امت کا عظیم نقصان ہوگا اور امت کو نقصان سے محفوظ رکھنے کے لئے ان کی جماعت کے امیدواروں کی کامیابی کو یقینی بنایا جانا چاہئے ۔ شہر حیدرآباد کے مختلف شادی خانوں میں منعقد ہونے والے ان اجلاسوں میں پرتکلف عشائیہ ترتیب دیتے ہوئے نوجوان آئمہ مساجد اور علماء کو اکابر علماء کی موجودگی اور ان کے خطاب کے لئے مدعو کرتے ہوئے سیاسی قائدین کو بھی مدعو کیا جارہاہے ۔ حلقہ اسمبلی نامپلی میں ایک معروف بلڈر نے اکابر علماء و مفتیان اکرام کے علاوہ نوجوان علماء کو جمع کرتے ہوئے وقت اور حالات کی نزاکت کے متعلق صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے اتحاد امت کا پیام دیا گیا اور اس اجلاس کا اہتمام ایک کنسٹرکشن کمپنی کی جانب سے کیا گیا تھا اسی طرح حلقہ اسمبلی ملک پیٹ میں واقع ایک ہوٹل کے بینکویٹ میں عیسائی اور دلت طبقہ سے تعلق رکھنے والوں کے علاوہ کارپوریٹر ڈیویژن کے اساس پر مساجد کے آئمہ و خطیب حضرات کو مدعو کرتے ہوئے ان کے لئے دعوت کا اہتمام کیا جا رہاہے اور انہیں بھی اتحاد امت وقت کا تقاضہ کے عنوان سے خطاب کرنے اور نوجوانوں کو ملک کے حالات سے واقف کرواتے ہوئے انہیں انتشار سے بچنے کی تلقین کرنے کا مشورہ دیا جار ہاہے اسی طرح حلقہ اسمبلی کاروان کے مختلف شادی خانوں میں دعوتوں کا اہتمام کرتے ہوئے اجلاس منعقد کئے جا رہے ہیں۔ حلقہ اسمبلی نامپلی میں منعقد ہونے والے اجلاس میں امیدوار کو قطعیت نہ دیئے جانے کے سبب خود صدر نے اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے اکابر علماء سے گفتگو کی اور نوجوان علماء کو موجودہ دور میں اتحاد امت کے سلسلہ میں خطاب کرنے کا مشورہ دیا۔ان اجلاسوں میں شرکت کرنے والے علماء اکرام بالخصوص نوجوان علماء اوربعض اکابر علماء کا کہنا ہے کہ انتخابات کے دوران ہی کیوں اتحاد امت اور انتشاری کیفیت کاشکار ہونے سے محفوظ رکھنے کی بات کی جاتی ہے!علاوہ ازیں بعض نوجوان علماء کا کہناہے کہ انتخابات میں اپنے حلقہ کی نمائندگی کے لئے نمائندہ کا انتخاب کرنا ہوتا ہے اور عوام کو اپنی پسند کے مطابق اپنے رکن اسمبلی یا پارلیمنٹ کے انتخاب کا اختیار ہونا چاہئے ۔ نوجوان علماء اکرام کا کہناہے کہ اکثر یہ دیکھا جانے لگا ہے کہ رئیل اسٹیٹ اور کنسٹرکشن شعبہ میں سرمایہ کاری کرنے والوں کی جانب سے اس طرح کے اجلاسوں کا اہتمام کرتے ہوئے ان کے پسندیدہ امیدواروں کی تائید کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔