واشنگٹن ۔ 26 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب کے ولیعہد محمد بن سلمان نے ایک ایسا بیان دیا ہے جس نے سب کو چونکا دیا ہے۔ انہوں نے صحافی جمال خشوگی کے قتل کی بالواسطہ ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ قتل ان کی نگرانی میں کیا گیا تھا تاہم اس کے بارے میں انہیں پہلے سے کوئی اطلاع نہیں تھی۔ انہوں نے ڈسمبر 2018ء میں ایک امریکی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے یہ بات کہی تھی۔ ایک دستاویزی فلم کی ریلیز سے قبل انہوں نے یہ بات کہی تھی جسے آئندہ ہفتہ ٹیلی کاسٹ کیا جائے گا۔ 2 اکٹوبر کو کئے گئے قتل کے بعد اس بیان پر اس وقت کوئی واویلا نہیں مچا تھا لیکن ان کا یہ بیان اب بھی غیرواضح ہیکہ خشوگی کا قتل ان کی نگرانی میں ہوا تھا یا ان کے اقتدار میں ہوا تھا؟ یہ ریمارک ہنوز واضح نہیں ہے۔ یوں تو سعودی کے فرمانروا شاہ سلمان ہیں لیکن درپردہ محمد بن سلمان کے ہاتھ میں اقتدار کی ڈور ہے۔ انہوں نے ایسا بیان ایک ایسے وقت دیا ہے جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس زوروشور سے جاری ہے جہاں عالمی قائدین یکجا ہوئے ہیں۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہیکہ محمد بن سلمان کا یہ بیان مبہم ہے۔ وہ آخر کیا کہنا چاہتے ہیں اور کونسی ذمہ داری اپنے سر لے رہے ہیں؟ استنبول میں واقع سعودی سفارتخانہ کی عمارت میں داخل ہونے کے بعد خشوگی پھر کبھی باہر نہیں آئے حالانکہ عمارت سے کچھ ہی فاصلہ پر ان کی منگیتر ان کی واپسی کا انتظار کررہی تھیں۔ دوسری حیرت انگیز بات یہ ہیکہ خشوگی کے قتل کے بعد ان کی نعش کبھی دستیاب نہیں ہوسکی۔ یہاں اس بات کا بھی تذکرہ دلچسپ ہوگا کہ ڈسمبر 2018ء میں ریاض میں کار ریس کے ایک ٹریک پر ان سے یہ سوال پوچھا گیا تھا کہ انہیں قتل کا علم کیونکر نہیں ہوا؟ جس کا جواب انہوں نے انتہائی پُرسکون انداز اور متانت سے دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہماری عوام کی تعداد 20 ملین ہے اور سرکاری ملازمین کی تعداد 3 ملین ہے۔ یہ پوچھے جانے پر کہ کس طرح ایک ٹیم ایک شاہی طیارہ کے ذریعہ استنبول پہنچ کر قتل کا ارتکاب کرسکتی ہے؟ جس کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے اعلیٰ سطحی عہدیداروں اور وزراء کی ایک ٹیم ہے اور تمام فیصلے انہیں کرنے کا پورا پورا اختیار حاصل ہے۔ دوسری طرف ابتداء میں شاہی خاندان نے خشوگی قتل میں شاہی خاندان کے ملوث ہونے کی مسلسل تردید کی تھی۔ خشوگی کو سعودی شاہی خاندان کا زبردست ناقد تصور کیا جاتا تھا۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق ماہر کے ذریعہ تیار کی گئی رپورٹ میں جو انہوں نے آزادانہ تحقیقات کے بعد تیار کی تھی جس میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ خشوگی قتل میں محمد بن سلمان کے ملوث ہونے اور قتل پر پردہ ڈالنے کے شواہد موجود ہیں جبکہ امریکہ کی جاسوسی ایجنسی سی آئی اے نے ایک رپورٹ کے مطابق خشوگی قتل کو محمد بن سلمان کی جانب سے دیا جانے والا حکم قرار دیا تھا۔