کراچی ۔ 11 فروری (سیاست ڈاٹ کام) 25 سنچریاں ،62 نصف سنچریاں ، ہندوستان کے خلاف 100 سے زیادہ کا ونڈے اوسط جس کے باجود کھلاڑی کو قید کی سزا ، یہ کوئی اور نہیں بلکہ پاکستان کے سابق اوپنر ناصر جمشید ہیں ، جن کو حال ہی میں 17 مہینے کی جیل کی سزا ہوئی ہے۔ ناصر جمشید کو پاکستان سوپر لیگ میں اسپاٹ فکسنگ کا قصوروار پایاگیا ۔ ناصر جمشید نے پاکستان سوپر لیگ 2018 میں اسلام آباد یونائیٹڈ اور پیشاور زلمی کے درمیان دبئی میں کھیلے گئے میچ کے دوران کھلاڑیوں کو جان بوجھ کر خراب کھیلنے کیلئے اکسایا تھا ، جس کے بعد ان پر پابندی لگادی گئی اور اب انہیں 17 مہینے کی جیل کی سزا سنائی گئی ہے۔ ناصر جمشید کی ایسی حرکت کرنے پر ان کے افراد خاندان کا سر شرم سے جھک گیا ہے۔ ان کی اہلیہ ڈاکٹر سمارا افضل نے اس کا تذکرہ ایک خط میں کیا ہے ، جو سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہورہا ہے۔ ناصر جمشید کی اہلیہ سمارا افضل نے نوجوان کھلاڑیوں کو ایک پیغام دیا ہے ، جس میں انہوں نے کہا کہ کوئی کرکٹر فکسنگ کا راستہ منتخب نہ کرے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جمشید کی اس حرکت نے ہمیشہ کیلئے ان کا اور پورے افرادخاندان کا سر شرم سے جھکا دیا ہے۔سمارا افضل نے کہا کہ ناصر کا مستقبل سنہرا ہوتا اگر وہ سخت محنت کرکے اس کھیل سے وابستہ رہتے۔ اس کھیل نے ناصر جمشید کو شہرت دلائی لیکن انہوں نے شارٹ کٹ لیا اور اپنا سب کچھ گنوادیا۔ اپناکیریئر ، رتبہ ، عزت اور آزادی۔ ناصر جمشید کو انگلینڈ کی شہریت مل سکتی تھی اور وہ کاونٹی کھیل سکتے تھے ، لیکن انہوں نے یہ موقع بھی گنوادیا۔ سمارا افضل نے مزید کہا کہ وہ وقت کو واپس لانے کیلئے کچھ بھی کرسکتا ہے ، تاکہ وہ کچھ نہ کھوئے۔ خاص کر اپنی بیٹی کو جس سے وہ بے حد پیار کرتا ہے ، لیکن اب کافی دیر ہوچکی ہے۔ مجھے امید ہے کہ سبھی کرکٹ کھلاڑی اس کو ایک مثال کے طور پر لیں گے اور سوچیں گے کہ بدعنوانی اور فکسنگ کا کیا نتیجہ ہوتا ہے۔ ایک انٹرنیشنل کرکٹر میری جیسی ڈاکٹر سے کافی زیادہ کماتا ہے ، لیکن مجھے سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ بدعنوان کیوں ہوجاتے ہیں۔ اپنے ملک کیلئے کھیلنا ایک اعزاز کی بات ہوتی ہے۔ مجھے امید ہے کہ دوسرا کوئی کرکٹر پیسے کیلئے ایسی حرکت نہں کرے گا ، جس سے اس کے افراد خاندان کو ایسا درد اورشرمندگی محسوس ہو ، جیسی ہمیں ہورہی ہے۔
