جمعیت علماء تمل ناڈو کی مجلس عاملہ و منتظمہ کا اجلاس

   

جمعیۃ یوتھ کلب اور جمعیۃ اوپن اسکول کے نظام کو شروع کرنے کا فیصلہ

بتاریخ 19جون 2022 بروز اتوار بعد نماز ظہر کانگر تکیہ مسجد آمبور میں مولانا محمد منصور صاحب کاشفی (صدر جمعیتہ علماء تمل ناڈو ) کی صدارت میں جمعیتہ علماء تمل ناڈو کی مجلس منتظمہ کا اجلاس منعقد ہوا۔ ناظم اعلیٰ حاجی حسن احمد صاحب نے استقبالیہ اور نظامت کے فرائض انجام دیے۔ مولانا شرف الدین صاحب باقوی (صدر جمعیتہ علماء ضلع ویلور) کی تلاوت سے اجلاس کا آغاز ہوا۔ پھر تمام ضلعی و شہری جمعیتوں کی تفصیلی کارگذاری و کارکردگی پیش کی گئی۔ جمعیتہ یوتھ کلب کے شروع کرنے پر غور و خوض کے بعد ہر ضلع میں تعارفی پروگرام کرنے کے بعد بھارت اسکاؤٹ اینڈ گائڈ کی ٹرائنگ کے لئے نوجوانوں کو تشکیل کرنا طے کیا گیا۔۔صوبہ تمل ناڈو کے مدارس اسلامیہ عربیہ کے طلبہ کیلئے عصری تعلیم کا بھی نظم کرنے جمعیتہ اوپن اسکول کے شعبہ کو شروع کرنا طے کیا گیا جس کے لیے کنوینر مولانا محمد اویس صاحب اور کو کنوینر مولانا عبد المجید قاسمی کو نامزد کیا گیا ۔ ملک میں پھیلتی جارہی نفرت کی روک تھام کے لیے مرکزی جمعیتہ علماء کی تجویز پر صوبہ تمل ناڈو کے ہر ضلع وشہر میں سدبھاؤنا منچ کمیٹی تشکیل دینا اور برادران وطن کے ساتھ قومی یکجہتی پروگرام کا انعقاد کرنا طے کیا گیا۔ جمعیتہ علماء کی تجویز عالمی یومِ ماحولیات کے تحت صوبہ تمل ناڈو میں 10ہزار شجر کاری کا عزم کیا گیا۔۔ پھر مولانا ضیاء الدین صاحب عمری نے تمام ذمہ داران و حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔ جس میں چنئی سے مفتی مجاہد الاسلام صاحب قاسمی، ڈاکٹر مولانا تمیم احمد قاسمی،مفتی الیاس مظاہری، ضلع رانی پیٹ سے مولانا محمد ابوبکر قاسمی، مولانا عبدالکریم کاشفی، مولانا آصف مظاہری،ضلع ویلور سے مولانا خطیب احمد سعید باقوی، مولانا اطہر الدین قاسمی، حافظ ضیاءالرحمن، وانمباڑی سے مفتی مدثر قاسمی، مولانا مزمل مظاہری، مولانا ندیم قاسمی،مولانا خلیل اللہ قاسمی،آمبور سے حاجی انجینئر رضوان، مولانا سید بشیر معدنی،عارف اللہ،ضلع سیلم سے مولانا صہیب احمد قاسمی، مفتی برکت علی، ضلع کرشنگری سے مولانا الطاف احمد صدیقی، ضلع دھرم پوری سے مولانا کاشف جان، ضلع ترنامل وندواسی سے مولانا نور باشاہ شاہی، مولانا عبدالرحیم صاحب داؤدی، پرنامبٹ سے مولانا محمد انظر قاسمی، مولانا ابرار احمد قاسمی، کے علاوہ کثیر تعداد اراکین عاملہ و منتظمہ شریک ہوئے۔ آخر میں مولانا کاشف جان کی دعا سے مجلس کا اختتام ہوا۔