برمنگھم۔ کامن ویلتھ گیمز (سی ڈبلیو جی) کی تیاریوں کے تنازعات کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ہندوستانی جمناسٹ شائقین کی توجہ اچھی کارکردگی کے ساتھ کھیلوں کی طرف واپس دلانا چاہیں گے، جب کہ ملک کی سائیکلنگ ٹیم ایک وقفے کے بعد اس ایونٹ میں میڈل کی قحط کو ختم کرسکتی ہے۔ ان دونوںگیمز میں جو چیز مشترک ہے وہ یہ ہے کہ حالیہ دنوں میں ان دونوں کے کوچ کو تبدیل کیا گیا ہے۔جمناسٹک میں خواتین کی ٹیم کے نامزد کوچ کے ساتھ ہیڈ کوچ روہت جیسوال کو گزشتہ ہفتے کامن ویلتھ گیمز اسکواڈ سے باہرکردیا گیا تھا۔ جیسوال پر جمناسٹ ارونا بڈا ریڈی نے ان کی رضامندی کے بغیر ان کی ویڈیو گرافی کرنے کا الزام لگایا تھا۔ سائیکلنگ ٹیم کی خاتون سائیکلسٹ کی جانب سے سلووینیا کے بیرون ملک دورے کے دوران ہیڈ کوچ پر نامناسب رویے کا الزام عائد کرنے کے بعد انہیں برطرف کر دیاگیا تھا۔ جیسوال کے دستبردار ہونے کے بعد تجربہ کارکوچ بشویشور نندی کو جمناسٹک ٹیم کی ذمہ داری سونپی گئی۔ نندی کی نگرانی میں دیپاکرماکر ریو اولمپکس میں کم فرق سے میڈل حاصل کرنے سے محروم ہوگئیں اور چوتھے نمبر پر رہیں۔