سرینگر ۔ 28 ۔ ستمبر : ( سیاست ڈاٹ کام ) : جموں و کشمیر میں 61 فیصد بلدی وارڈ کے انتخابات ہوئے ہیں ۔ پنچوں کا انتخاب اب تک صرف 7596 وارڈوں میں ہوا ہے ۔ لیکن حکومت نے اب تک صرف 730 پنچوں کا اعلان کیا ہے بقیہ 288 پنچایتوں میں سے صرف ایک ہی کا انتخاب ہوا ہے ۔ اس طرح 45 فیصد پنچ وارڈز مخلوعہ ہیں ۔ وادی کے 2375 سرپنچ وارڈوں میں سے 1558 پنچ ہی منتخب ہوئے ہیں ۔ مگر حکومت نے صرف 1311 پنچوں کے لیے صداقت نامہ جاری کیا ہے ، گزشتہ سال ستمبر میں عبدالرشید ڈار کو عسکریت پسند ان کے گھر سے اٹھا لے گئے تھے ۔ ایک گروپ نے انہیں مارا پیٹا بھی تھا ایک دوسرے گروپ نے ان کی پٹائی کی ویڈیو بھی بنائی تھی ۔ ویڈیو میں بتایا گیا تھا کہ عسکریت پسند ڈار سے کہہ رہے ہیں کہ وہ انتخابات میں حصہ نے لیں اور اس سے دور رہیں ان کے فرزند جو ایک اسپیشل پولیس آفیسر ہیں ۔ انہیں اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے پر مجبور کیا جارہا ہے ۔ ان کے لڑکے نے عسکریت پسندوں کے کہنے پر اپنی ملازمت سے استعفیٰ دے دیا اور ڈار نے عسکریت پسندوں سے معافی بھی مانگ لی ۔ جموں و کشمیر کے پنچایت الیکشن ہونے کے باوجود بھی پنچ ، سرپنچ اپنے گاوں جانے سے ڈر رہے ہیں اور ہوٹلوں میں قدم جمائے ہوئے ہیں ۔ تاہم، مرکز کی طرف سے بار بار یہی کہا جارہا ہے کہ صورتحال معمول پر آرہی ہے۔