جموں۔ 26 اگست (یو این آئی) جموں و کشمیر میں جاری مسلسل اور شدید بارشوں نے معمولاتِ زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے ۔ جموں کے بھگوتی نگر کے قریب توی ندی پر قائم پانچ میں سے ایک اہم ریلوے پل (پل نمبر چار) پانی کے شدید بہاؤ کے باعث منہدم ہو گیا، جس کے بعد ریلوے حکام نے فوری طور پر احتیاطی اقدام کے طور پر دس سے زائد ٹرین سروسز کو منسوخ کر دیا ہے ۔ واقعہ کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے شمالی ریلوے کے جنرل مینجر اور جموں کے ڈویژنل ریلوے مینجر اپنی تکنیکی ٹیموں کے ہمراہ پٹھان کوٹ میں موجود ہیں، جہاں سے وہ صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں اور نقصانات کا تخمینہ لگا رہے ہیں۔ ریلوے حکام نے بتایا کہ مسافروں کی حفاظت اولین ترجیح ہے ، اور ٹریک کی مرمت اور بحالی کے حوالے سے فیصلے مکمل سروے کے بعد کیے جائیں گے ۔ دریں اثنا محکمہ موسمیات نے آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے ۔
جموں سیلاب : 10 افراد ہلاک، متعدد زخمی
نشیبی علاقوں سے لوگوں کا فوری انخلا
جموں۔ 26 اگست (یو این آئی) جموں و کشمیر ایک بار پھر شدید قدرتی آفت کی زد میں آگیا ہے ۔ منگل کے روز شدید بارشوں کے باعث دریاؤں میں طغیانی، زمین کھسکنے اور سیلابی ریلوں نے جموں خطے میں تباہی مچادی، جس کے نتیجے میں کم از کم 10 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ ترکوٹا پہاڑی پر واقع ویشنو دیوی مندر کے 12 کلومیٹر طویل پیدل راستے پر، ادھکُواری کے مقام پر منگل کی شام 3 بجے کے قریب پہاڑ کھسکنے کا واقعہ پیش آیا۔ اس حادثے میں 6 افراد جاں بحق اور 14 زخمی ہوگئے ، جبکہ متعدد افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے ۔ حکام کے مطابق ہمکوٹی والے راستے کو پہلے ہی صبح کے وقت بند کر دیا گیا تھا، جب کہ پرانے راستے پر یاترا دوپہر 1:30 بجے تک جاری تھی، جسے بعد ازاں حفاظتی تدابیر کے تحت بند کر دیا گیا۔ پنجاب کے موہالی کی رہائشی کرن نے بتایاکہ ہم درشن کرکے واپس آ رہے تھے کہ اچانک پہاڑ سے پتھر، درخت اور مٹی گرنے لگی۔ میں بمشکل بچی، لیکن زخمی ہو گئی ہوں۔ ریسکیو کے لیے فوج کی تین ٹیمیں کٹرامیں تعینات کی گئیں۔ فوج کے مطابق، وہ مقامی انتظامیہ کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں اور متاثرہ علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے ۔ ڈوڈہ ضلع میں بارش کے باعث چار افراد جاں بحق ہوئے ، جن میں سے تین دریا میں گر کر ڈوب گئے اور ایک شخص مکان گرنے سے جاں بحق ہوا۔ کشتواڑ، ریاسی، راجوری، رام بن اور پونچھ سے بھی انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
یہ آفت ایسے وقت میں آئی ہے جب صرف 12 دن قبل 14 اگست کو کشتواڑ کے چسوٹی گاؤں میں کلاؤڈ برسٹ سے 65 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوئے تھے ۔ شدید بارشوں کے باعث موبائل نیٹ ورک، انٹرنیٹ اور بجلی کا نظام کئی علاقوں میں مفلوج ہو چکا ہے ۔ فائبر آپٹک کیبلز کے متاثر ہونے سے لاکھوں لوگ رابطے سے محروم ہو گئے ہیں۔ تمام نیٹ ورک سروس فراہم کرنے والے اداروں نے فوری بحالی کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔