جموں میں انکاؤنٹر ، جیش کے 4 جنگجو ہلاک

,

   

Ferty9 Clinic

کشمیر میں بڑے حملے کا منصوبہ ناکام ، بھاری اسلحہ و گولہ بارود برآمد

جموں:جموں کے مضافاتی علاقہ نگروٹہ میں سری نگرجموں قومی شاہراہ پر جمعرات کی صبح ہونے والے ایک مسلح تصادم میں جیش محمد سے وابستہ چار جنگجو مارے گئے ہیں۔تصادم کے دوران جموں و کشمیر پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی) کے دو اہلکار زخمی ہوئے ہیں نیز جس ٹرک میں جنگجو سوار ہو کر وادی کشمیر کی طرف آ رہے تھے وہ گولہ باری کی وجہ سے نذر آتش ہو گیا ہے ۔سکیورٹی عہدیداروں نے تصادم میں چار جنگجوئوں کی ہلاکت کو ایک بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود بشمول 11 اے کے 47 رائفلیں اور 35 ہینڈ و یو بی جی ایل گرینیڈ برآمد کئے گئے ہیں۔تصادم کی وجہ سے سری نگر جموں قومی شاہراہ پر گاڑیوں کی آمد ورفت کئی گھنٹوں تک معطل رہی۔ تاہم تلاشی کارروائی کے بعد گاڑیوں کو اپنی اپنی منزلوں کی طرف جانے کی اجازت دے دی گئی۔جموں و کشمیر کے پولیس سربراہ دلباغ سنگھ نے کہا کہ مارے گئے جنگجوئوں کا تعلق جیش محمد سے تھا جو کشمیر کی طرف رواں تھے ۔ان کا مزید کہنا تھاکہ دراندازی سے متعلق خفیہ اطلاعات کے پیش نظر ہائی وے پر قائم سبھی ناکوں کو الرٹ پر رکھا گیا تھا۔ جنگجوئوں کا یہ گروپ ٹرک میں بیٹھ کر کشمیر کی طرف جا رہا تھا جب نگروٹہ میں بن ٹول پلازہ کے نزدیک انہیں روکا گیا۔ انہوں نے پولیس کی پارٹی پر فائرنگ شروع کی۔ جوابی کارروائی میں چار جنگجو مارے گئے ہیں’۔جموں زون پولیس کے انسپکٹر جنرل مکیش سنگھ نے یہاں ایک پریس کانفرنس میں نامہ نگاروں کو تصادم کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ آج صبح پانچ بجے جب بن ٹول پلازہ کے نزدیک چیکنگ چل رہی تھی تو ایک ٹرک کو روکا گیا۔ جب ڈرائیور کو گاڑی سے نیچے اترنے کے لئے کہا گیا تو وہ وہاں سے فرار ہو گیا۔ اس پر ناکہ پارٹی کو شک ہوا اور انہوں نے گاڑی کی تلاشی لینی شروع کر دی’۔انہوں نے کہا کہ تلاشی کے دوران فورسز اہلکاروں پر فائرنگ کی گئی۔ تاہم اہلکاروں نے فوراً جوابی کارروائی شروع کی۔ اس کے بعد مزید فورسز کو بلایا گیا۔ تصادم قریب تین گھنٹے تک چلا جس دوران ہم پر بھاری فائرنگ کی گئی اور گرینیڈ پھینکے گئے ۔ جنگجوئوں کی فائرنگ سے پولیس کے دو کانسٹیبل زخمی ہوئے ہیں جن کی حالت خطرے سے باہر ہے ‘۔مکیش سنگھ نے کہا کہ تصادم کے دوران چار جنگجو مارے گئے جن کی شناخت ہونا ابھی باقی ہے ۔