صدرجمہوریہ نے صدر راج برخاست کرکے نظم و نسق سنبھال لیا۔ نئے لیفٹننٹ گورنرس کا تقرر
سرینگر ۔ 31 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) گھڑی کے بارہ گھنٹے بجا کر نئے دن کے آغاز کا اعلان کرتے ہی ریاست جموں و کشمیر دو مرکز زیرانتظام علاقوں میں تبدیل ہوگئی۔ وادی کشمیر میں آج 88 ویں دن بھی مسلسل بند منایا گیا جبکہ وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ’’نئے نظام کا مقصد ایک مضبوط ربط کی تعمیر ہے‘‘۔ صدرجمہوریہ ہند رامناتھ کووند نے جموں و کشمیر سے صدر راج برخاست کردیا اور دونوں مرکز زیرانتظام علاقوں جموں و کشمیر اور لداخ کا نظم و نسق سنبھال لیا۔ یہ پہلی بار ہے جبکہ ایک ریاست کا موقف تبدیل کرکے اسے دو مرکز زیرانتظام علاقوں میں تبدیل کیا گیا ہے۔ اس طرح ہندوستان میں ریاستوں کی تعداد میں تخفیف ہوکر وہ 28 ہوگئی ہے۔ یہ اقدام 5 اگست کو دستورہند کی دفعہ 370 کے تحت ریاست کو حاصل خصوصی موقف کو منسوخ کرنے اور اسے دو مرکز زیرانتظام علاقوں میں تبدیل کرنے کے اعلان کے مطابق ہے۔ گریش چندر مرمو نئے مرکز زیرانتظام علاقہ جموں و کشمیر اور رادھا کرشنا ماتھر لداخ کی تاریخ میں اولین لیفٹننٹ گورنرس کی حیثیت سے داخل ہوگئے۔ چیف جسٹس جموں و کشمیر ہائیکورٹ گیتا متل نے دونوں کو عہدہ کا حلف دلوایا۔ پہلی حلف برداری تقریب لیہہ اور دوسری سرینگر میں منعقد کی گئی۔ اس تبدیلی کے وقف وزیراعظم مودی گجرات کے علاقہ کیواڑہا میں مجسمہ اتحاد کے پاس سردار پٹیل کو شاندار خراج عقیدت ان کی 144 ویں یوم پیدائش تقریب کے سلسلہ میں ادا کررہے اور قومی اتحاد کی حلف برداری میں قوم کی قیادت کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ دستورہند کی دفعہ 370 کے تحت جموں و کشمیر کو خصوصی موقف عطا کرنے سے وہ پورے ملک سے کٹ کر علحدہ ہوگیا اور اسی نے دہشت گردی کو بڑھاوا دیا۔ جموں و کشمیر اور لداخ کو مرکز زیرانتظام علاقوں میں تبدیل کردینے کا نیا نظام زمین پر کوئی سرحد تعمیر کرنے بلکہ ایک مستحکم ربط قائم کرنے کے مقصد سے قائم کیا گیا ہے لیکن وادی کشمیر میں اس کے خلاف ایک اور دن بند منایا گیا۔ کشمیری عوام اسے ان کے مفادات کے خلاف قرار دے رہے تھے۔ مقامی شہری پورے جوش و خروش کے ساتھ مخالفین بند کی اپیل کو تسلیم کرتے ہوئے اس میں شرکت کررہے تھے، تجارتی ادارے اور تعلیمی ادارے مکمل طور پر بند تھے۔ سڑکیں ویران نظر آرہی تھیں۔ نجی اور سرکاری ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب تھا۔ محکمہ مواصلات نے صرف پوسٹ پیڈ خدمات بحال کی تھیں۔ دیگر مواصلاتی خدمات معطل تھیں۔ چنانچہ مرکزی حکومت کا یہ ادعا کہ وادی کشمیر میں حالات بتدریج معمول پر آرہے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہیکہ صرف خودفریبی ہے جبکہ حقیقی صورتحال وادی کشمیر میں حکومت کے ادعا کے بالکل برعکس ہے۔ کل یوروپی یونین کے ارکان پارلیمنٹ کے وفد کے دورہ کشمیر کے موقع پر ارکان پارلیمنٹ نے کہا تھا کہ وہ کشمیر کو افغانستان بننے نہیں دینا چاہتے ۔
جموں وکشمیر اور لداخ کے لیفٹننٹ گورنرس کی حلف برداری
راج بھون اور سندھو سنسکریتی اڈیٹوریم میں تقاریب ، اہم قائدین کی شرکت
سرینگر ۔31 اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) گریش چندرا مرمو نے مرکز کے زیرانتظام علاقہ جموں و کشمیر کے پہلے لیفٹننٹ گورنر کی حیثیت سے حلف لیا ۔ چیف جسٹس جموں و کشمیر گیتا متل نے انہیں حلف دلایا ۔ اس ضمن میں آج راج بھون میں سادہ تقریب منعقد کی گئی تھی ۔ گریش چندر مرمو آئندہ سال 60برس کے ہوں گے ۔ ان کا تعلق گجرات کیڈر آئی اے ایس آفیسر 1985ء بیاچ سے ہے ۔ ان کے تقرر کے احکامات کو چیف سکریٹری بی وی آر سبرامنیم نے پڑھ کر سنایا ۔ تقریب میں 250 سے زائد افراد شریک تھے جن میں بی جے پی قائد جوگل کشور اور رکن راجیہ سبھا و وپی ڈی پی قائد نظیر لاویا اور دوسرے شامل تھے ۔ گریش چندر مرمو کا تعلق ریاست اڈیشہ سے ہے ۔ تاہم انہوں نے گجرات میں نریندر مودی کے ساتھ ان کے ایڈیشنل پرنسپال سکریٹری کی حیثیت سے اُس وقت کام کیا جب مودی گجرات کے چیف منسٹر تھے ۔ مرمو نے پبلک سرویس میں ایم بی اے کی تکمیل کی اور پولیٹکل سائنس میں پوسٹ گریجویٹ ہیں ۔ جموں کشمیر کے آخری گورنر ستیہ پال ملک کو ان کی ماباقی میعاد کی تکمیل تک گوا کا گورنر مقرر کیا گیا ہے ۔ ستیہ پال ملک کا پہلی مرتبہ ستمبر 2017 میں بہار کے گورنر کی حیثیت سے تقرر عمل میں آیا تھا جبکہ گذشتہ سال اگست میں انہیں جموں و کشمیر کاگورنر مقرر کیا گیا تھا ۔ جموں و کشمیر کے خصوصی موقف کو ختم کرنے کیلئے 5 اگست کو دستور کی دفعہ 370 اور 35A کو منسوخ کردیا گیا جس کے بعد 31 اکٹوبر 2019ء سے جموں و کشمیر مرکز کے زیر انتظام دو علاقوں جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم ہوگیا ہے ۔لیہہ سے موصولہ اطلاع کے مطابق سابق بیورو کریٹ رادھا کرشن ماتھر نے آج یونین ٹریٹری لداخ کے پہلے لیفٹننٹ گورنر کی حیثیت سے آج حلف لیا ۔ رادھا کرشن ماتھر آئندہ ماہ 66برس کے ہوں گے ۔ چیف جسٹس جموں و کشمیر ہائیکورٹ گیتا متل نے انہیں عہدہ کا حلف دلایا ۔ اس سلسلہ میں سندھو سنسکرتی اڈیٹوریم میں ایک سادہ تقریب منعقد کی گئی تھی جس میں لیہہ اور کارگل ہل کونسلز کے عہدیداروں کے علاوہ فوج اور نیم فوجی فورسیس‘ مذہبی قائدین اور دیگر اہم شخصیتیں شریک تھیں ۔ حلف برداری تقریب کے بعد رادھا کرشن ماتھر کو لداخ پولیس کی جانب سے گارڈ آف آنر پیش کیا گیا ۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے لیفٹننٹ گورنر نے کہاکہ سرحدی علاقوں میں کئی ترقیاتی سرگرمیاں انجام دینے کی ضرورت ہے ۔ حکومت کی جانب سے علاقہ میں مختلف ترقیاتی پروگراموں پر عمل کیا جارہا ہے تاہم عوام اور ہل کونسلز سے مشاورت کے ساتھ لداخ میں نئے دور کا آغاز کیا جائے گا اور ترقیاتی سرگرمیوں کو ترجیح دی جائے گی ۔ رادھا کرشن ماتھر کا تریپورہ کے آئی اے ایس آفیسر 1977ء بیاچ سے تعلق ہے اور انہیں تریپورہ کے چیف سکریٹری کی حیثیت سے سرحدی علاقوں میں کام کرنے کا خاصہ تجربہ حاصل ہے ۔ انہوں نے آئی آئی ٹی سے انڈسٹرئیل انجنیئرنگ میں پوسٹ گریجویشن کی تکمیل کی ۔ وہ 2015ء میں ڈیفنس سکریٹری کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے تھے اور اس سال انہیں ستمبر میں چیف انفارمیشن کمشنر مقرر کیا گیا تھا ۔ گذشتہ سال نومبر میں انہوں نے اپنی میعاد تکمیل کی ۔ 1989ء آئی اے ایس بیاچ کے آفیسر اومنگ نرولا کو ماتھر کا مشیر مقرر کیا گیاہے جبکہ ایس ایس کھندارے لداخ میں پولیس سربراہ ہوں گے جن کا تعلق 1995ء آئی پی ایس بیاچ سے ہے ۔