پھلوں سے لدے ٹرکس کو کئی دنوں تک قومی شاہراہ پر روکنے سے شدید نقصان
سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر اور سابق چیف منسٹر جموں و کشمیرمحبوبہ مفتی کا الزام ہے کہ سری نگر۔ جموں قومی شاہراہ پر پھلوں سے لدے ٹرکوں کو روکنے کے بعد اب جموں وکشمیر حکومت قومی شاہراہ پر قبائیلوں اور ان کے مویشیوں کی نقل و حمل میں مداخلت کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ انتظامیہ جموں وکشمیر کے ہر شہری اور کمیونٹی کو ضرر پہنچانے پر بضد ہے۔ محبوبہ مفتی نے ان باتوں کا اظہار پیر کے روز اپنے ایک ٹوئٹ میں کیا۔انہوں نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ’قومی شاہراہ پر پھلوں سے بھرے ٹرکوں کو کئی روز تک جان بوجھ کر روکنے سے اس صنعت سے وابستہ لوگوں کو بے تحاشہ نقصان پہنچا ہے۔ اس کے بعد لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ اب قبائیلوں اور ان کے مویشیوں کی نقل و حمل میں مداخلت کر رہی ہے‘۔ ان کا ٹوئٹ میں مزید کہنا تھا کہ ’انتظامیہ جموں وکشمیر کے ہر شہری اور کمیونٹی کو ضرر پہنچانے کی ضد پر ہے‘۔قابل ذکر ہے کہ ضلع انتظامیہ رام بن کے مطابق نقل مکانی کرنے والے قبائلی خاندانوں کو سری نگر۔ جموں قومی شاہراہ پر پیدل سفر کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ضلع مجسٹریٹ رام بن 24 ستمبر کو اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ’نقل مکانی کرنے والے خاندان توجہ کریں کہ قومی شاہراہ پر پیدل سفر کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، اپنے مال و مویشیوں کو نوگام بانہال ٹاپ ٹنل سے آر ٹی سی گاڑیوں میں لے جائیں اور بانہال کے ایس ڈی ایم کے ساتھ رابطہ کریں‘۔