ووٹوں کی گنتی کا سلسلہ جاری، گپکار اتحاد 81 اور بی جے پی 47 نشستوں پر آگے، بیالٹ پیپرس کی وجہ سے قطعی نتائج آنے میں وقت درکار
سرینگر : جموں و کشمیر کے ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کونسل (ڈی ڈی سی) انتخابات کے بعد ووٹوں کی گنتی کا سلسلہ جاری ہے۔ فی الحال 280 نشستوں کیلئے ووٹوں کی گنتی کی جارہی ہے۔ الیکشن کمیشن نے چونکہ اس بار بیالٹ پیپرس کے ذریعہ رائے دہی کروائی ہے لہٰذا مکمل نتائج آنے تک مزید وقت لگ سکتا ہے۔ تازہ ترین اطلاع کے مطابق سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ کی قیادت والی عوامی اتحاد برائے گپکار اعلامیہ کو بی جے پی پر سبقت حاصل ہے۔ یاد رہیکہ 5 اگست 2019ء کو جموں و کشمیر کے خصوصی موقف 370 کو منسوخ کئے جانے کے بعد یہ پہلا الیکشن تھا۔ جموں و کشمیر کو ریاست کے درجہ سے ہٹا کر مرکز کے تحت کردیا گیا تھا۔ گپکار اتحاد کو جو مختلف علاقائی پارٹیوں بشمول نیشنل کانفرنس اور محبوبہ مفتی کی پی ڈی پی پر مشتمل ہے، 81 نشستوں پر سبقت حاصل ہے جبکہ بی جے پی 47 نشستوں پر آگے ہے ا ور رہی بات کانگریس کی تو اسے صرف 21 نشستوں پر سبقت حاصل ہے۔ جہاں تک جموں کا سوال ہے تو وہاں بی جے پی 44 نشستوں پر آگے ہے جبکہ گپکار اتحاد 20 نشستوں پر آگے چل رہی ہے اور کشمیر میں گپکار اتحاد 61 نشستوں پر آگے ہے جبکہ بی جے پی اس سے کافی پیچھے ہے یعنی بی جے پی کو صرف تین نشستوں پرسبقت حاصل ہے۔ یاد رہیکہ اس بار انتخابات ای وی ایمس کی بجائے بیالٹ پیپرس کے ذریعہ کروائے گئے تھے لہٰذا ووٹوں کی مکمل گنتی اور قطعی نتائج آنے میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔ انتخابات 25 دنوں میں 8 مراحل میں کروائے گئے تھے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہیکہ گپکار اتحاد جموں و کشمیر میں دفعہ 370 منسوخ کرنے کے خلاف تشکیل دیا گیا ہے جسے اتحاد نے غیر آئینی قرار دیا ہے کیونکہ مرکزی حکومت نے اس کے ذریعہ جموں و کشمیر ریاست کی خصوصی حیثیت ختم کردی ہے۔ جموں و کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ فاروق عبداللہ، عمرعبداللہ اور محبوبہ مفتی کو گذشتہ سال اگست میں نظربند کردیا گیا تھا۔ فاروق عبداللہ اور عمرعبداللہ کی رہائی جاریہ سال مارچ میں عمل میں آئی تھی جبکہ محبوبہ مفتی کو اکٹوبر میں رہا کیا گیا تھا۔ ان انتخابات کو جموں و کشمیر میں آئینی تبدیلیوں کے تئیں ایک ریفرنڈم قرار دیا جارہا ہے جس سے یہ واضح ہوجائے گا کہ جموں و کشمیر میں کی گئی آئینی تبدیلی مثبت ہے یا منفی۔ ان انتخابات کیلئے بی جے پی کے انوراگ ٹھاکر کو انچارج بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ انہیں پورا یقین ہیکہ بی جے پی کامیابی حاصل کرے گی۔ عوام جموں و کشمیر میں نئی قیادت دیکھنا چاہتے ہیں جس سے عوام کے دیرینہ مسائل کی یکسوئی بھی عمل میں آسکے گی۔ رائے دہی کیلئے عوام کی کثیر تعداد پولنگ بوتھس پہنچی تھی حالانکہ انہیں ایسا نہ کرنے کی دھمکی دی گئی تھی۔ انوراگ ٹھاکر نے کہا کہ رائے دہی کا تناسب دیکھ کر یہی کہا جاسکتا ہے کہ جمہوریت کی جیت ہوئی۔ وزیراعظم نریندر مودی نے وعدہ کیا تھا کہ پنچایت، بی ڈی سی اور ڈی ڈی سی سطح پر انتخابات کروائے جائیں گے اور انہوں نے اپنا یہ وعدہ پورا کیا۔ ڈی ڈی سی انتخابات کا اعلان بھی اتنا اچانک کیا گیا تھا کہ تمام سیاسی پارٹیاں ششدر رہ گئی تھیں۔ بہرحال وادی کی دیگر سیاسی پارٹیوں نے اپنا اتحاد قائم کرلیا اور اسے گپکار اتحاد کا نام دیا جبکہ بی جے پی گپکارا اتحاد کوگپکارا گینگ کہتی ہے۔ فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی نے ایک بار بھی اپنے امیدواروں کیلئے انتخابی مہم میں حصہ نہیں لیا جس کی وجہ سوائے ان کے کوئی اور نہیں جانتا۔