راجیہ سبھا میں مبینہ ووٹ چوری کا پی جے پی پر الزام ،ایوان میں ووٹ چور کے نعرہ
سری نگر، 27 اکتوبر (آئی اے این ایس) جموں و کشمیر اسمبلی میں پیرکے روز راجیہ سبھا کے حالیہ انتخابات میں مبینہ کراس ووٹنگ اور ڈوڈہ کے رکن اسمبلی مہراج ملک کی گرفتاری کے معاملے پر زبردست ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی۔ اس دوران حکمران نیشنل کانفرنس (این سی) اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ارکان نے ایک دوسرے پر شدید الزامات لگائے۔ اسمبلی کے سوال و جواب کے سیشن کے دوران یہ معاملہ زیرِ بحث آیا، جب نائب وزیرِاعلیٰ سرندر چودھری نے بی جے پی پر الزام عائد کیا کہ اس نے راجیہ سبھا انتخابات میں چار ووٹ چرا لیے۔ انہوں نے کہا، کل آپ نے چار ووٹ چرا لیے۔ اگر میں بولنا شروع کروں تو کوئی اپنی جگہ پر نہیں بیٹھے گا۔ کچھ راز راز ہی رہنے دیں۔ ان کے بیان کے بعد ایوان میں زبردست شور شرابہ شروع ہوگیا۔ نیشنل کانفرنس کے ارکان نے بی جے پی اراکین کو ووٹ چور کے نعرے لگا کر نشانہ بنایا، جس سے ماحول مزید گرما گیا۔ اسی دوران پیپلز کانفرنس کے سربراہ اور رکن اسمبلی سجاد غنی لون نے دونوں جماعتوں پر گٹھ جوڑ کا الزام لگاتے ہوئے کہا یہ سب میچ فکسنگ تھی۔ اسی دوران رکن اسمبلی مہراج ملک کی پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت حراست کا معاملہ بھی اٹھا، جس نے ایوان میں مزید گرمی پیدا کر دی۔ یہ بحث اسمبلی کے خزاں سیشن کے دوسرے دن سامنے آئی، کیونکہ پہلے دن اجلاس مرحوم اراکین کے ایصالِ ثواب کے لیے مختص تھا۔ نیشنل کانفرنس کے ایم ایل اے سجاد شاہین نے معراج ملک کی گرفتاری پر ایک گھنٹے کی بحث کا مطالبہ کیا، جس میں دیگر کئی اراکین نے بھی ان کا ساتھ دیا اور پی ایس اے کے حکم کی فوری منسوخی کا مطالبہ کیا۔ نذیر احمد خان جو نیشنل کانفرنس سے وابستہ ہیں، نے کہا کہ اسمبلی کی بالادستی عدالتوں سے بھی بالاتر ہے، اس لیے ایوان کو لازمی طور پر اس گرفتاری کے اسباب پر بحث کرنی چاہیے۔ دوسری جانب بی جے پی اراکین نے اس مطالبے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ عدالت میں زیرِ غور ہے، لہٰذا اسے ایوان میں اٹھانا غیر مناسب ہوگا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکمران جماعت قانونی معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ بی جے پی ارکان نے کہا جب قانونی کارروائی جاری ہے تو ایسے معاملات ایوان میں نہیں اٹھائے جانے چاہئیں۔ ایوان میں شور شرابے کے بعد اسپیکر نے مداخلت کرتے ہوئے اراکین کو یقین دلایا کہ قواعد و ضوابط کے مطابق عوامی اہمیت کے تمام معاملات اٹھانے کی اجازت دی جائے گی۔کئی ارکان، بشمول پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) اور نیشنل کانفرنس کے نمائندے، نے سجاد شاہین کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی گرفتاری سیاسی انتقام کا نتیجہ ہے۔