کشمیر میںپولیس اور لا اینڈ آرڈر مرکز کے تحت ، دیگر امور منتخبہ اسمبلی کے تفویض، آئی اے ایس ، آئی پی ایس خدمات موجودہ قواعد کے تحت برقرار
نئی دہلی ۔ 30 ۔ اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) جموں و کشمیر میں جمعرات 31 اکتوبر سے پولیس اور لا اینڈ آرڈر راست طور پر مرکزی حکومت کے تحت ہوگا ، جب جموں و کشمیر مرکز کے زیر انتظام علاقہ بن جائے گا جبکہ لینڈ (اراضی) منتخبہ حکومت کے تحت ہوگی ۔ جموں و کشمیر تنظیم جدید قانون 2019 ء کے مطابق اراضی ، اس کے حقوق جموں و کشمیر مرکز کے زیر انتظام کی منتخبہ حکومت کے پاس ہوں گے ۔ اس کے برخلاف دہلی میں جہاں لیفٹننٹ گورنر ہیں ، وہ دہلی ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کے ذریعہ اس پر عمل ہوتا ہے جو مرکزی حکومت کی ایجنسی ہے ۔ تنظیم جدید قانون کے مطابق جموں و کشمیر یونین ٹریٹری کی قانون ساز اسمبلی مکمل یا یونین ٹریٹری کے کچھ حصہ کیلئے قانون سازی کرسکتی ہے، سوائے ان معاملات کے جن کا سرکاری احکام اور پولیس کے ضمن میں دستور کی فہرست میں تذ کرہ کیا گیا ہے یا جن کا دستور کے ساتویں شیڈول کی فہرست میں تذکرہ ہے ۔ دہلی اور پوڈوچیری دونوں میں پولیس اور امن و قانون پر لیفٹننٹ گورنر کے ذریعہ مرکزی حکومت کی جانب سے کنٹرول کیا جاتا ہے جبکہ دونوں میں ان کی قانون ساز اسمبلیاں ہیں ۔ انڈین ایڈمنسٹریٹیو سرویس (آئی اے ایس) اور انڈین پولیس سرویس (آئی پی ایس) کے علاوہ اینٹی کرپشن بیورو (اے سی بی) جیسی آل انڈیا سرویسز لیفٹننٹ گورنر کے کنٹرول میں ہوں گی اور یہ جموں و کشمیر یونین ٹریٹری کی منتخبہ حکومت کے تحت نہیں ہوں گے ۔ سرویسز اور اے سی بی، اروند کجریوال کی زیر قیادت دہلی حکومت اور لیفٹننٹ گورنر کے درمیان تنازعہ کی اہم وجوہات رہی ہیں۔ جموں و کشمیر تنظیم جدید قانون کے مطابق اراصی سے متعلق امور یونین ٹریٹری کی منتخبہ حکومت کے تحت ہوں گے جن میں اراضی کی مدت کا تعین ، زرعی ارا صی ، اراصی کا فروغ اور زراعی قرضہ جات وغیرہ شامل ہیں ۔
لینڈ ریکارڈز کی نگرانی ، لینڈ ریونیو اور آمدنی کے مقاصد سے اراصی کا سروے اور اس سے متعلق دیگر امور منتخبہ حکومت کے تحت ہوں گے ۔ دوسری طرف یونین ٹریٹری لداخ میں پولیس اور لا اینڈ آرڈر راست طور پر لیفنٹننٹ گورنر کے تحت ہوں گے جس کے ذریعہ مرکزی حکومت اس کے انتظامات کی نگرانی کرے گی۔ تنظیم جدید قانون کے تحت لداخ میں قانون ساز اسمبلی نہیں ہوگی ۔ 31 اکتوبر 2019 ء سے دونوں مرکز کے زیر انتظام علاقہ جموں و کشمیر اور لداخ وجود میں آجائیں گے اور اس تاریخ سے ہائی کورٹ، جموں و کشمیر ، مرکز کے زیر انتظام دونوں علاقوں کے لئے مشترکہ ہوگا ۔ جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے ججس جمعرات سے ہائی کورٹ کے مشترکہ ججس ہوں گے ۔ تنظیم جدید قانون کے مطابق آئی اے ایس اور آئی پی ایس کیڈر موجودہ قانون کے تحت ہی خدمات انجام دے گا جبکہ مستقبل میں آل انڈیا سرویسز آفیسرس کی پوسٹنگ یو ٹی کیڈر کے تحت ہوگی۔ جموں کشمیر یونین ٹریٹری اسمبلی میں منتخبہ ارکان کی تعداد 107 ہوگی جس میں از سر نو حدبندی کے بعد 114 تک اضافہ کیا جائے گا ۔ اسمبلی کی 24 نشستیں ہنوز مخلوعہ ہوں گی کیونکہ وہ پاکستان مقبوضہ کشمیر کے تحت ہیں ۔