نئی دہلی۔ الیکشن کمیشن نے منگل کو ایک انگریزی روزنامے میں شائع اس خبر کی تردید کی ہے جس میں جموں و کشمیر میں انتخابی حلقہ بندی کے پیش نظر الیکشن کرانے کا فیصلہ وہاں کے لیفٹننٹ گورنر جی سی مرمو پر منحصر کرتا ہے ۔کمیشن نے کہا ہے کہ انگریزی اخبار ’’ٹریبیون‘‘ میں اس ضمن میں شائع ہوئی خبر غلط ہے کیونکہ الیکشن کرانے کا اختیار صرف الیکشن کمیشن کو ہے۔ قبل ازیں ’’ہندو‘‘ اخبار میں پچھلے سال 18 نومبر اور ’’ہندوستان ٹائمس‘‘ میں گزشتہ 26 جون اور ’’اکنامک ٹائمس‘‘ میں 28 جولائی کو اس سلسلے میں خبر شائع ہوئی تھی۔کمیشن نے ان خبروں پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کرانے کا آئینی اختیار صرف الیکشن کمیشن کو ہے اور وہ الیکشن کرانے سے پہلے اس ریاست کے موسم،مقامی تہوار جیسے سبھی پہلوؤں اور دیگر حساس مسائل کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کرتا ہے ۔اس وقت کورونا کی وجہ سے بھی حالات بدل گئے ہیں۔ اس لئے الیکشن کرانے کے سلسلے میں اس بات کا بھی خیال رکھا جائے گا۔ الیکشن کا فیصلہ کرتے وقت حلقہ بندی کے نتیجے کے علاوہ مرکزی فورس اور ریلوے کوچیس کی دستیابی کو بھی دھیان میں رکھا جائے گا۔کمیشن کے سینئر عہدیداروں کے ذریعہ ان تمام اُمور کا جائزہ لینے اور متعلقہ حکام سے تبادلہ خیال کے بعد ہی کمیشن سبھی فریقوں کیساتھ وسیع غور کرکے کوئی فیصلہ کرے گا۔الیکشن کمیشن کے علاوہ کوئی تنظیم یا کوئی دیگر افسر الیکشن کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا ہے ۔
