جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی بہتری کیلئے اقدامات رازدارانہ کیوں؟

   

الہان عمر کا ہندوستانی خاتون صحافی آرتی ٹکو سنگھ سے سوال ، عالمی پریس پر اسلامی جہاد نظرانداز کرنے کا الزام

واشنگٹن۔23 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) ایک ہندوستانی صحافی کشمیر میں انسانی حقوق کی صورت حال کے موضوع پر ایک امریکی کمیٹی کے روبرو پیش ہوئی تھی، نے اپنے خیالات اور موقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عالمی پریس نے پاکستان کی سرپرستی میں جاری دہشت گردانہ کارروائیوں کو بالکل نظرانداز کردیا ہے جس کا سلسلہ کوئی ایک دو دن سے نہیں بلکہ پورے 30 سال سے جاری ہے جس پر صحافی کو ایک امریکی کانگریس وومن کی جانب سے کئی سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ جس میں یہ سوال بھی پوچھا گیا تھا کہ آیا رپورٹنگ کے لیے ان (صحافی) کے اصول و مقاصد کیا تھے۔ یہ امریکی کانگریس وومن کوئی اور نہیں بلکہ حالیہ دنوں میں شہ سرخیوں میں شائع ہونے والی الہان عمر تھیں جنہوں نے آرتی ٹکو سنگھ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ آرتی ٹکو سنگھ کانگریشنل دعوت پر امریکہ کی گئی تھیں تاکہ وہ امریکی کمیٹی کے روبرو پیش ہوسکیں اور جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی سے متعلق اپنا موقف پیش کرسکیں۔ آرتی ٹکو نے الہان عمر کو متعصب قرار دیا اور کانگریس کے نظریات کو بھی یکطرفہ اور ہندوستان کے خلاف متعصبانہ اور پاکستان کے حق میں قراردیا۔ آرتی ٹکو سنگھ نے کہا کہ گزشتہ 30 سالوں سے جموں و کشمیر میں پاکستان کی قیادت میں اسلامی جہاد کا جو سلسلہ جاری تھا اسے عالمی پریس نے بالکل نظرانداز کر رکھا تھا۔ دنیا میں آج ایسا کوئی پریس نہیں ہے اور نہ ہی ایسا کوئی انسانی حقوق جہدکار ہے جس نے جموں و کشمیر میں پاکستانی دہشت گردی کے شکار افراد کے بارے میں کچھ لکھا ہو۔ الہان عمر نے نہ صرف آرتی ٹکو سنگھ کو تنقید کا نشانہ بنایا بلکہ یہ بھی کہا کہ اگر صحافت (پریس) کسی حکومت کی ترجمان بن جائے تو پھر اس سے بدترین مثال کوئی اور نہیں ہوسکتی۔ یاد رہے کہ الہان عمر امریکی ایوان نمائندگان میں موجود دو مسلمان خواتین میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے آرتی ٹکو سنگھ پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ (آرتی) اس اسٹوری کے سرکاری رخ کی حمایت کررہی ہیں اور اس طرح وہ (آرتی) اپنی صحافتی ذمہ داریوں کو دیانت داری سے پورا نہیں کررہی ہیں جبکہ ایک سچے صحافی کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ سچائی کے ساتھ اپنی رپورٹ کو عوام کے سامنے پیش کرے کیوں کہ رپورٹنگ کو اگر غلط انداز میں پیش کیا جائے تو حقائق مسخ ہوجاتے ہیں اور کسی بھی واقعہ یا اسٹوری کے صرف اس رخ کو پیش کیا جائے جس میں متعلقہ ملک کی حکومت کی صرف تائید شامل ہو تو پھر ایسی صحافت سے کوئی فائدہ نہیں جو حکومت کی ترجمان (بھونپو) بن جائے۔ الہان عمر نے کہا کہ آرتی کا یہ کہنا کہ حکومت ہند کشمیر میں جو بھی اقدامات کررہی ہے وہ انسانی حقوق کے لیے بہتر ہے تو پھر حکومت ہند نے سارے کام رازدارانہ انداز میں کیوں کئے؟ جس کا جواب دیتے ہوئے آرتی ٹکو سنگھ نے کہا کہ جموں و کشمیر کے مسلمان پاکستانی دہشت گردی کا شکار ہورہے تھے۔