جموں و کشمیر میں صدر راج میں مزید 6 ماہ کی توسیع

   

الیکشن کمیشن کی تیاری کے ساتھ ہی سرحدی ریاست میں آزادانہ و منصفانہ انتخابات ہوں گے: امیت شاہ
نئی دہلی 28 جون (سیاست ڈاٹ کام) لوک سبھا نے آج جموں و کشمیر میں 3 جولائی سے مزید 6 ماہ کے لئے صدر راج میں توسیع کو اپنی منظوری دے دی جبکہ وزیرداخلہ امیت شاہ نے ادعا کیاکہ سرحدی ریاست میں اسمبلی انتخابات جیسے ہی الیکشن کمیشن تواریخ کا اعلان کرے جمہوری، آزادانہ اور منصفانہ انداز میں منعقد کئے جائیں گے۔ اُنھوں نے لوک سبھا کو بتایا کہ دستور کا آرٹیکل 370 جو جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ عطا کرتا ہے بہ اعتبار نوعیت عبوری ہے نہ کہ مستقل۔ لوک سبھا نے جموں و کشمیر ریزرویشن (ترمیمی) بِل 2019 ء کو بھی منظوری دے دی جو سابقہ حکومت کے جاری کردہ آرڈیننس کی جگہ لے گا۔ جموں و کشمیر میں بین الاقوامی سرحد کے پاس مقیم افراد کو اِس بِل کے مطابق فائدہ ہوگا۔ یہ فائدہ حقیقی خط قبضہ کے پاس رہنے والوں کے مساوی سلوک میں پروفیشنل کورسیس میں داخلہ، نوکریوں میں بھرتی اور ترقی کے معاملہ میں ریزرویشن کی صورت میں حاصل ہوگا۔ سرحدی ریاست میں صدر راج کی توسیع چاہتے ہوئے پیش کردہ قانونی قرارداد اور ترمیمی بِل پر بحث کا جواب دیتے ہوئے امیت شاہ نے دعویٰ کیاکہ مودی حکومت دہشت گردی کے تئیں سخت پالیسی پر عمل پیرا ہے اور ملک کو دہشت گردی سے پاک بنانا چاہتی ہے۔ اُنھوں نے جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال کے لئے کانگریس اور سابق وزیراعظم جواہرلال نہرو کو مورد الزام ٹھہرایا۔ اپوزیشن پارٹی پر اپنے حملے کو جاری رکھتے ہوئے امیت شاہ نے بتایا کہ آرٹیکل 356 (صدر راج) کو ملک بھر میں 132 مرتبہ لاگو کیا گیا جس میں کانگریس نے اِسے ریاستی حکومتوں کی برطرفی کے لئے 93 بار استعمال کیا ہے۔