جموں و کشمیر میں پابندیاں ہٹانے سے سپریم کورٹ کا انکار

   

نئی دہلی13اگست(سیاست ڈاٹ کام )سپریم کورٹ نے جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ دینے والے آرٹیکل 370کو ہٹائے جانے کے بعد ریاست میں نافذ سبھی پابندیوں کو ہٹانے کے لئے مریز اور جموں و کشمیر کو فوری طورپر کوئی ہدایت دینے سے منگل کو انکار کردیا۔جسٹس ارون مشرا،جسٹس ایم آر شاہ اور جسٹس اجے رستوگی کی قیادت والی بینچ کانگریس کارکن تحسین پوناوالا کی عرضی پر سماعت کررہی تھی۔عدالت عظمیٰ نے کہاکہ وہ ریاست میں حالات معمول پر آنے کا انتطار کرے گی اور معاملے پر دو ہفتے بعد پھر سماعت ہوگی۔بینچ نے کہا کہ راتوں رات حالات معمول پر نہیں آسکتے ۔بینچ نے اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال سے سوال کیا کہ حالات معمول پر آنے میں کتنا وقت لگے گا۔مسٹر وینوگوپال نے کہا کہ جموں و کشمیر کے حالات کا مرکزی حکومت جائزہ لے رہی ہے ۔بینچ نے کہاکہ جموں و کشمیر کی حالیہ صورت حال بہت حساس ہے اور علاقے میں حالات معمول پر اانے کے لئے کچھ وقت دیا جانا چاہئے ۔بینچ نے یہ بھی کہا کہ یہ یقینی بنایا جانا چاہئے کہ ریاست میں کوئی جانی نقصان نہیں ہونا چاہئے ۔پوناوالا نے اپنی عرضی میں آرٹیکل 370 کو ہٹائے جانے کے سلسلے دائر اپنی عرضی میں کہا تھا کہ وہ آرٹیکل 370کے سلسلے میں کوئی رائے ظاہر نہیں کررہے ہیں لیکن وہ چاہتے ہیں کہ جموں و کشمیر سے کرفیو اور پابندیاں اور فون لائن،انٹرنیٹ اور خبررساں چینلوں کی نشریات روکے جانے سمیت کئی سخت قدم واپس لئے جائیں ۔
کشمیری طلبہ حد درجہ پریشان:ڈی راجہ کا بیان
نئی دہلی ۔ 13 ۔ ا گست (سیاست ڈاٹ کام) سی پی آئی جنرل سکریٹری ڈی راجہ نے آج مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کو ایک مکتوب بھیج کر جمو ں و کشمیر کے اسٹوڈنٹس کی زبوں حالی کو اجاگر کیا ۔ یہ طلبہ وطن سے دور یا گھر سے دور مقیم ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مرکز ان کی حفاظت کے لئے مناسب انتظام کرے گا۔ امیت شاہ سے اسٹوڈنٹس کی مدد کرنے کی اپیل کرتے ہوئے سی پی آئی لیڈر نے کہا کہ اسٹوڈنٹس کو مالی اور سلامتی کے مسائل کا سامنا ہے اور ان میں سے کئی اپنی فیملیوں سے رابطہ قائم کرنے سے قاصر ہیں کیونکہ حکومت نے وادی میں تمام کمیونکیشن معطل کر رکھا ہے۔