بیورو کریسی میں عوام کی کوئی نہیں سنتا اور جو بھی کام ہوتے ہیں صرف دکھاوے کیلئے ہوتے ہیں
سری نگر: جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس نے ہمیشہ جمہوریت اور آئین کی بالادستی کو مقدم سمجھا ہے اور ہر حال میں عوام کوہی طاقت کا سرچشمہ مانا ہے اور پارٹی ان اصولوں پر آج بھی کاربند ہے ۔ان باتوں کا اظہار پارٹی جنرل سکریٹری حاجی علی محمد ساگر نے عوامی وفود سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفود نے اپنے اپنے علاقوں کے لوگوں کے مسائل و مشکلات اور تعمیر وترقی کے کاموں میں سست رفتاری کے معاملات اُجاگر کئے ۔ وفود نے کہا کہ لوگ زبردست اقتصادی بدحالی اور بے روزگاری کے شکار ہوگئے ہیں اور حکومتی سطح پر بھی راحت کاری کیلئے کچھ بھی نہیں کیا جارہاہے ۔ وفود نے کہا کہ لوگوں کو بجلی، پینے کے پانی ، سڑک جیسے عام ضروریاتِ زندگی میسر نہیں اور اس بنیادی ضروریات کیلئے بھی لوگوں کو آئے روز سڑکوں پر آنا پڑتا ہے ۔ ساگر نے اس موقع پر کہا کہ ہم بار بار یہ کہتے آئے ہیں کہ افسر شاہی عوامی منتخبہ حکومت کا متبادل نہیں ہوسکے ۔ ان کا کہنا تھا کہ بیروکریسی کے راج میں عوام کی کوئی شنوائی نہیں ہوتی اور جو بھی کام ہوتے ہیں وہ محض اشتہار بازی اور دکھاوے کیلئے ہوتے ہیں اور جموںو کشمیر کی موجودہ صورتحال سے یہ ساری باتیں صحیح ثابت ہورہی ہیں۔ساگر نے کہا کہ کہ گذشتہ5برسوں کے دوران جموں و کشمیر کو تباہی اور بربادی کے دہانے پر لاکھڑا کیا گیا ہے اور اس تاریخی ریاست کو ہر سطح پر نظرانداز کیا جارہا ہے ۔ جموں وکشمیر کا ہر ایک شعبہ اس وقت تنزلی کا شکار ہے جبکہ حکمران اور اعلیٰ عہدوں پر فائز لوگ تعمیر و ترقی اور امن و امان کے بڑے بڑے دعوے کررہے ہیں لیکن زمینی سطح پر حالات ان دعوؤں کے عین برعکس ہیں۔ گذشتہ4سال کے دوران کشمیر کو اندھیروں میں دھکیلنے کے سوا اور کوئی کام نہیں ہوا ہے ۔ تعمیر و ترقی کا کہیں نام و نشان نہیں، امن و امان کی صورتحال بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے جبکہ اظہارِ رائے کی آزادی مکمل طور پر سلب کردی گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ جمہوریت کا فقدان اور افسر شاہی اداروں اور نظام کیلئے سم قاتل ثابت ہوا ہے اور غیر ریاستی افسران کی بھرمار نے انتظامی انتشار اور خلفشار میں مزید اضافہ کردیا ہے ۔