دفعہ 370 کی تنسیخ کے بعدجموں کو کچھ فائدہ نہیں ہوا، مہنگائی میں اضافہ،محبوبہ مفتی کی پریس کانفرنس
جموں: پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ نے کہا کہ جموں کے حالات کشمیر کے حالات سے بھی بدتر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دفعہ 370 کے خاتمے کے بعد سے جموں میں بھی اندھیرا چھایا ہوا ہے اور لوگ مختلف خدشات و تحفطات کے بھنور میں پھنس گئے ہیں۔موصوفہ نے ان باتوں کا اظہار پیر کو یہاں گاندھی نگر میں واقع پارٹی ہیڈ کوارٹر پر منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔انہوں نے کہا: ‘کشمیر میں ہمارے حالات خراب تو ہیں ہی لیکن مجھے لگتا ہے کہ جموں کے حالات کشمیر کے حالات سے بدتر ہیں۔ جو کہا گیا تھا کہ دفعہ 370 سے کشمیر اور مسلمانوں کو فائدہ ہے اور اس کے خاتمے سے جموں میں دودھ کی ندیاں بہیں گی، کاروبار اور نوکریاں بڑھ جائیں گی لیکن میں دیکھتی ہوں کہ لوگ پریشان ہیں’۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ دفعہ 370 کے خاتمے کے بعد سے جموں میں بھی اندھیرا چھایا ہوا ہے اور یہاں بھی لوگوں کا دم گھٹ رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ دفعہ مہاراجہ ہری سنگھ نے ڈوگروں کی شناخت کے تحفظ کے لئے جموں و کشمیر کے آئین میں شامل کی تھی۔سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہماری بجلی سے ملک کے کارخانے چلتے ہیں جبکہ ہمیں مشکلات در پیش ہیں۔ان کا کہنا تھا: ‘ہمارے وسائل کی نیلامی کی جا رہی ہے ، ہماری بجلی سے ملک کے کارخانے چل رہے ہیں جبکہ جموں والوں کو گرمی میں بجلی کی عدم دستیابی سے پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کشمیر میں لوگوں کو سردیوں میں بجلی کی عدم دستیابی سے گوناگوں مسائل سے دوچار ہونا پڑتا ہے ‘۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ بی جے پی نے دفعہ 370 ختم کر کے آئین کی توہین کی ہے اور ہمیں جو جھنڈا اور دوسرے حقوق اس آئین نے دیے ہیں ہم ان کی بحالی کے لئے لڑ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں صرف مسلمان اور ڈوگرہ برادری کو ہی نہیں بلکہ سکھ اور پنڈت برادری کے لوگوں کو بھی بہت ساری شکایتیں ہیں۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ ریت اور باجری نکالنے کے لئے بھی باہر کے لوگوں کو ٹھیکے دیے جا رہے ہیں جس سے ان چیزوں کی قیمتیں کافی بڑھ گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری بعض ٹی وی چینلز ملک کے آئین کی بجائے بی جے پی کے منشور کو چلاتی ہیں۔موصوفہ نے کہا کہ بعض علاقوں میں لوگوں سے اپنی شناخت ظاہر کرنے کے لئے ایک فارم بھرنے کو بھی کہا جاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے یہاں رشوت کے سارے ریکارڈ توڑ دیے ہیں اور جہاں ان کو پیر دھرنے کی بھی جگہ نہیں تھی وہاں انہوں نے پارٹی کے بڑے دفاتر تعمیر کئے ہیں۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ ناگا لینڈ والے جب ملک کے آئین اور جھنڈے کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں تو کوئی جلوس نہیں نکالا جاتا ہے لیکن جب میں کہتی ہوں کہ میں ملک اور جموں و کشمیر کا جھنڈا ایک ساتھ اٹھاؤں گی تو احتجاج کیا جاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جب چین کے ساتھ بات چیت کی جا سکتی ہے باوجودیکہ انہوں نے ہمارے بیس جوانوں کو شہید کیا تو ہمارے ساتھ بات چیت کرنے کیلئے یہ دوہرا معیار کیوں اپنایا جاتا ہے ۔
