میڈیا پر صحافتی اقدار سے منحرف ہونے کا الزام ، منتھن کا سمواد ، ساگاریکا گھوش کا خطاب
حیدرآباد۔4اکٹوبر(سیاست نیوز) ممتا زصحافی اور مصنف ساگاریکا گھوش نے ’’لبرٹی اینڈ دی بگ اسٹیٹ‘‘ کے عنوان پر خطاب کرتے ہوئے وائٹ ہاوز میں امریکی صدر اور سی این این آئی بی این کے صحافی کے درمیان ہوئی نوک جھونک کا تذکرہ کیااو رکہاکہ سوال پوچھنا صحافی کاکام ہے بالخصوص ایسے سوالات جو عوام سے جڑے ہیں اور انسانیت کی نمائندگی کرتے ہوں ‘ اس طرح کے سوالا ت سے انحراف نہ صر ف صحافت کے ساتھ ناانصافی ہوگی بلکہ صحافت سے عوام کا بھروسہ بھی ختم ہوجائے گا۔ گھوش نے مزید کہاکہ وائٹ ہاوز میںصحافی اورصدر کے درمیان نوک جھونک کا واقعہ سرخیوںمیںآنے کے بعد مذکورہ صحافی کے وائٹ ہاوز میںداخلہ پر روک لگادی گئی تھی جس کے جواب میں سی این این اور آئی بی این نے امریکی عدالت عظمیٰ کا دروازہ کھٹکھٹایااور کامیابی حاصل کی ۔ انہوں نے کہاکہ اس کو جمہوریت کہتے ہیں اور جمہوریت میںسوال کرنے والوں کی کافی اہمیت ہوتی ہے ‘ ظلم وزیادتی ‘ جبر پر خاموشی جمہوری نظام کا حصہ ہرگز نہیںہے ۔ ہم گاندھی جینتی تو دھوم سے مناتے ہیںمگر گاندھی جی کے اصولوں پر چلنے سے گریز کیا جاتا ہے۔منتھن کے سمواد سے خطاب کرتے ہوئے گھوش نے سوال پوچھنے پر زور کو گاندھیائی سونچ کا حصہ قراردیا او رکہاکہ مہاتما گاندھی نے حکمرانوں سے سوال پوچھنے کا حوصلہ دیا ہے مگر آج ہم سوال پوچھنے سے گریز کررہے ہیں ۔ ساگاریکا گھوش نے ملک کے موجودہ حالات پر خاموشی کو قابل افسوس قراردیا اور کہاکہ بالخصوص میڈیا اپنے صحافتی اقدار سے منحرف ہوگیاہے اور عوامی نمائندگی پر مشتمل سوالات سے میڈیا کا اجتناب ڈیموکرسی کیلئے نقصاندہ ثابت ہورہا ہے۔انہوں نے لبرلزم کو روح کی تلاش قراردیا اور کہاکہ ‘ اس کے باوجود کھلی سونچ اور کھلا ذہن آج بھی ایک پیچیدہ لفظ بنا ہوا ہے۔ ساگاریکا گھوش نے سماجی لبرٹی کیساتھ معاشی لبرٹی میں توازن پر زوردیا تاکہ معاشی ترقی کو یقینی بنایا جاسکے۔انہوں نے کہاکہ سماجی لبرٹی سے عوام کو اپنی آواز اور مطالبات حاصل کرنے میںمدد ملے گی تاکہ ان کی ضرورتیں پوری ہوسکیں یا پھر کم سے کم ان کی سنوائی کی جاسکے تاکہ اس کی تکمیل حکومت کے ساتھ دانشوروں کے اشتراک سے ممکن ہوسکے۔ساگاریکا کا احساس یہ ہے کہ اب وقت مذکورہ حکومت سے ’’ سوال‘‘ کرنے کی ضرورت ہے اور اس کو لبرلزم نہیں سمجھا جاسکتا ہے۔یہ واحد راستہ ہے جس کے ذریعہ حکومت کی میڈیا پر اجارہ داری کو روکا جاسکتا ہے۔ساگاریکا گھوش نے ملکی حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ اظہار خیال کی آزادی ‘ کیاکرنا ہے‘ کیاکھانا ہے‘ کیا پہننا ہے جیسے معاملات پر تحدیدات پر افسوسناک حد تک خاموشی چھائی ہوئی ہے جو کسی خطرے کی گھنٹی سے کم نہیںہے۔ جہاں پر معاشرتی آزادی بڑی حد تک درکار ہے اور اس کی اشد ضرورت ہے وہاں پر ریاستوں کی قیادت وہ سیاسی قیادت کررہی ہے جسکو چیک نہیںکیاگیا ہے اور وہ وہاں پر اس طرح کی تحدیدات عائد کرتے ہوئے ناگوار حالات پیدا کررہے ہیں۔ ساگاریکا گھوش نے جموں وکشمیر میں عائد تحدیدات سے لے کر ہجومی تشدد میںہونے والی ہلاکتوں کا راست تذکرہ کئے بغیر ملک میں پیدا کئے جارہے خوف کے ماحول کو بھی نہ صرف خطرہ کی گھنٹی قراردیا بلکہ مہاتما گاندھی کے خوابوں کے ہندوستان کی سونچ کے عین خلاف قراردیا۔