جمہوریت میں ووٹ کی اہمیت مسلمہ ‘ عوام سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں

,

   

بی آر ایس نے ریاست میں مثالی فلاحی اسکیمات شروع کیں۔ انتخابی جلسوں سے چیف منسٹر کے سی آر کا خطاب

حیدرآباد /2نومبر ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے سی آر نے کہا کہ تلنگانہ انتخابات میں مقابلہ یکطرفہ ہے ، بی آر ایس 100 حلقوں پر کامیابی حاصل کریگی۔ دوسرے اور تیسرے مقام کیلئے کانگریس و بی جے پی میں مقابلہ ہے۔ آج دھرما پوری، بالکنڈہ اور نرمل میں بی آر ایس جلسوں سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ کانگریس ریاست میں قصائی کلچر کو فروغ دے رہی ہے۔ بی آر ایس قائد پر چاقو سے حملہ کرکے ڈرو خوف کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ ریاست میں گذشتہ 10 سال میں فرقہ وارانہ فسادات نہیں ہوئے اور نہ کرفیو کی ضرورت پڑی ہے، ہر طرف امن و امان ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے جہاں ووٹ کی بہت اہمیت ہے۔ ووٹ کسی کی بھی قسمت بدل سکتا ہے ، ایسے جمہوری ہتھیار کا غلط استعمال کیا گیا تو عوام کا مستقبل خطرہ میں پڑ سکتا ہے ۔ کانگریس ایک موقع دینے کی عوام سے اپیل کررہی ہے عوام نے انہیں 11 مرتبہ موقع دیا ہے ، کانگریس کے 55 سالہ دور حکومت پر بی آر ایس کی 10 سالہ حکمرانی حاوی ہے۔55 سال میں کانگریس نے جو کام نہیں کئے وہ کام بی آر ایس نے 10 سال میں کر دکھائے ہیں غلطی سے بھی کانگریس پر بھروسہ کیا گیا تو ریاست تاریکی میں ڈوب جائیگی ۔ تلنگانہ عوام باشعور ہیں ریاست کے ہر گلی نکڑ پر عوام آپس میں بات کریں، بی آر ایس اور کانگریس اقتدار کا تقابل کریں، فائدہ، نقصانات ، امن، خوشحالی کا جائزہ لیں پھر 30 نومبر کو ووٹ دینے کا فیصلہ کریں۔ تمام سروے بی آر ایس کے حق میں ہیں، عوام حکومت کی کارکردگی سے مطمئن ہیں ۔ وہ عوام سے وعدہ کرتے ہیں کہ انتخابی منشور سے جو وعدے کئے گئے ان پر عمل ہوگا اور جن اسکیمات پر پہلے سے عمل ہورہا ہے ان کو برقرار رکھتے ہوئے امدادی رقم میں اضافہ کیا جائے گا، وہ چاہتے ہیں انتخابات میں عوام کامیابی حاصل کریں۔ بی آر ایس کی کامیابی ہی عوام کی کامیابی ہے۔ کانگریس اور بی جے پی کو ریاست اور ملک کے مفادات سے کوئی ہمدردی نہیں ہے وہ صرف سیاسی مفادات کیلئے اقتدار حاصل کرنے کے بعد عوام سے کئے گئے وعدوں کو فراموش کردیا جائے گا ۔ تلنگانہ میں جن فلاحی اسکیمات پر عمل کیا جارہا ہے ایسی اسکیمات کانگریس اور بی جے پی ریاستوں میں نہیں ہیں۔ ایسی جماعتوں کے وعدوں پر بھروسہ کرکے تلنگانہ کے عوام دھوکہ نہ کھائیں۔ کانگریس اور بی جے پی نے سمندر میں پانی کا تحفظ کرنے آبپاشی پراجکٹس تعمیر نہیں کئے ، زرعی شعبہ کی ترقی، کسانوں کی فلاح و بہبود کیلئے کوئی کام نہیں کیا، نلوں کے ذریعہ گھروں کو پینے کی پانی سربراہی کیلئے ٹھوس اقدامات نہیں کئے۔ سوائے تلنگانہ کے کسی ریاست میں یہاں تک کہ وزیر اعظم کی ریاست گجرات میں بھی 24 گھنٹے برقی نہیں ہے۔ شادی مبارک، کلیان لکشمی جیسی اسکیمات کہیں نہیں ہیں۔ آسرا پنشن کے تحت مختلف طبقات کو تلنگانہ میں جتنی رقمی امداد دی جارہی ہے اتنی امداد ملک کی کسی اور ریاست میں نہیں ہے۔ کالیشورم جیسا آبپاشی پراجکٹ ملک میں کہیں تعمیر نہیں کیا گیا ہے۔ مرکز کے تعاون کے بغیر ہم نے اس کو ممکن کر دکھایا ہے۔ کورونا کا ٹیکہ حیدرآباد میں تیار کیا گیا ، حیدرآباد کی تیز رفتار ترقی کے بعد اراضیات کی قیمتیں آسمان کو چھورہی ہیں۔ ن