سری نگر: موجودہ نازک ترین دورمیں اختلافات، رنجشوں اور دوریوں کیلئے کوئی جگہ نہیں۔اگر ہمیں اپنی قوم کی تقدیر کو بدلنا اور ایک روشن مستقبل کی داغ بیل ڈالنی ہے تو اس کیلئے اتحاد و اتفاق لازمی ہے ۔ ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے آج کھنہ بل میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ آپسی اختلافات اور دوریاں قوموں کے زوال کا سبب بنی ہے اور جموں وکشمیر کے موجودہ حالات اس اتحاد و اتفاق کے متقاضی ہیں۔ اس کے علاوہ ہمیں ایسے عناصر کی ریشہ دوانیوں سے ہر حال میں بچ کر رہنا ہے جو ہمیں گمراہ اور تقسیم کرنے کیلئے میدان میں اتارے گئے ہیں۔ جموں وکشمیر میں اس وقت بہت سارے ضمیر فروش ایک دوسرے کو پچھاڑنے کی تگ و دو میں لگے ہوئے ہیں اور خود کو بادشاہ سے زیادہ وفادار جتلانے کیلئے مخبری، ضمیر فروشی، موقعہ پرستی،مفاد پرستی اور قوم فروشی کے ریکارڈ مات کررہے ہیں۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے جمون وکشمیر کے عوام کو ایسے عناصر سے ہوشیار کرتے ہوئے کہا کہ بہت سارے لوگ آپ کے پاس مختلف لبادے پہن کر آئیں گے ، جو آپ کو سبز باغ دکھائیں گے اور آپ کا ایمان پیسوں سے خریدنے کی کوشش کریں گے۔
لیکن آپ کو اس دوران عزم اور استقلال کا مظاہرہ کرنا ہے اور دشمنوںکی تمام چالوں سے ہوشیار رہنا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن اور جمہوریت کی بحالی کیلئے ہر ایک کو متحد ہوکر اپنا رول نبھانا ہوگا ۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ سعودی عرب اور ایران کے علاوہ شام اور عرب میں تعلقات کی بحالی نے عالم اسلام میں ایک نئی اُمید جگا دی ہیں۔ وقت کی ضرورت ہے کہ ہم بھی تمام نظریات کو بالائے طاق رکھ کر جموں وکشمیر کی وحدت،انفرادیت اور پہچان کو قائم و دائم رکھنے کے لئے ایک جٹ ہوجائیں۔ منشیات اور دیگر سماجی بدعات کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ نوجوان پود منشیات کی بدترین اور جان لیوا لت میں گھر چکی ہے ، جو ہمارے لئے ایک لمحہ فکریہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ نوجوان ہی قوم اور ملک کے مستقبل کے معمار ہوتے ہیں اور اگر نوجوان پود ہی منشیات جیسے بدعات کے بھنور میں پھنس جائیگی تو مستقبل کے تاریک ہونے کے قوی امکانات ہیں۔ اس لئے میں والدین کے ساتھ ساتھ علمائے دین اور ایمہ مساجد سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ نوجوانوں کو منشیات کی لت سے باز رکھنے میں اپنا رول نبھائیں۔ انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر بھی زور دیا کہ منشیات کے استعمال کے خاتمے کیلئے اس وبائکی جڑ تک جائیں۔