نئی دہلی : ڈی ایم کے رکن کے اے راجہ نے آج کہا کہ ان کی پارٹی کو یقینی طور پر کانگریس سے شکایات ہیں لیکن آج وہ ملک میں جمہوریت، سوشلزم اور سیکولرازم کے تحفظ کیلئے اس کے ساتھ ہے ۔آئین کے 75 سال کے شاندار سفر پر لوک سبھا میں بحث کے دوسرے دن مسٹر راجہ نے کہا کہ ان کی پارٹی کو کانگریس سے ضرور شکایات ہیں لیکن ہمیں آئین، جمہوریت، سیکولرزم اور سوشلزم کے بارے میں فکر ہے ۔ اس لیے ان کی پارٹی کانگریس کے ساتھ کھڑی ہے ۔ اس وقت جمہوریت، سوشلزم اور سیکولرازم کو دبا دیا گیا ہے ، اسی لیے میں کانگریس کے ساتھ بیٹھا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کیسوانند بھارتی کیس میں سپریم کورٹ کی آئینی بنچ نے واضح کر دیا تھا کہ آئین میں ترمیم کی جا سکتی ہے لیکن اس کی بنیادی روح کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ مسٹر راجہ نے کہا کہ دامودر ونائک ساورکر سب سے پہلے ہندو قوم کی بات کرنے والے تھے ، محمد علی جناح نے ان کے بعد دو قوموں کی بات شروع کی۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے ہندو قوم کے اصول کو قبول نہیں کیا تھا۔بحث میں تلگو دیشم کے ایل سری کرشنا دیوریالو نے کہا کہ ڈاکٹر امبیڈکر نے شاندار آئین بنایا، لیکن دستور ساز اسمبلی کے دیگر اراکین نے بھی بنانے میں بہت مدد کی۔مسٹر دیوریالو نے کہا کہ جب این ٹی راما راؤ چیف منسٹر تھے اور علاج کیلئے امریکہ گئے تو آندھرا پردیش میں ان کی حکومت گرادی گئی، کیا یہ آئین کے مطابق تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری جمہوریت ڈاکٹر امبیڈکر کے آئین کی وجہ سے زندہ ہے ، ہم سب مل کر آئین کو برقرار رکھیں گے ۔