جناب اختر حسن مرحوم کی صحافتی ادبی اور سیاسی خدمات کو خراج عقیدت

   

خودنوشت سوانح حیات کی رسم رونمائی، رانی اندرا دھن راج گیر اور مجتبیٰ حسین کی تقاریر

حیدرآباد۔ 17؍نومبر (راست) حیدرآباد کی شائستہ تہذیب کی نمائندہ شخصیت رانی اندرا دیوی دھن راج گیر نے ڈاکٹر محمد شجاعت علی راشد کی مرتبہ اختر حسن مرحوم کی خود نوشت سوانح حیات ’’کچھ یادیں کچھ باتیں‘‘ کی رسم اجراء انجام دی۔ 16؍نومبر کی شام میڈیا پلس آڈیٹوریم میں گواہ اور میڈیا پلس کے زیر اہتمام منعقدہ اس تقریب رونمائی کی صدارت پروفیسر فاطمہ بیگم پروین نے کی۔ پدم شری مجتبیٰ حسین جناب عزیز احمد جوائنٹ ایڈیٹر اعتماد، اختر ایمن، عرشی اختر، ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز، سید خالد شہباز اور ڈاکٹر محمد شجاعت علی راشد شہ نشین پر موجود تھے۔ رانی اندرا دیوی دھن راج گیر نے اس موقع پر کہا کہ اختر حسن مرحوم سے ان کے دیرینہ روابط رہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تقریب میں اختر حسن کے خاندان سے مل کر ایسا لگا جیسے میں پرانے دور میں واپس چلی گئی ہوں اور آج یہاں آپ تمام کو سن کر لگتا ہے کہ زبان کیسے جوان ہوتی ہے!جناب مجتبی حسین نے کہا کہ اختر بھائی اور ریاست بھابھی سے میں انہوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اختر بھائی نے انہیں بلٹز میں بہت چھاپا۔ آج ساری باتیں خواب لگتی ہیں۔ شجاعت نے اس کتاب کو شائع کرکے اس دور کو محفوظ کردیا۔پروفیسر فاطمہ بیگم پروین نے صدارتی تقریب میں کہا کہآج کے اس پروگرام میں ہر شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والے ماضی، حال اور مستقبل کے نمائندے موجود ہیں جنہیں دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اردو ختم ہو رہی ہے یا اردو کا مستقبل تاریک ہے۔ یہ محفل بتاتی ہے کہ اردو کا مستقبل کتنا تابناک ہے۔ اختر حسن کا پیام سے جو لگاؤ تھا اس کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’پیام‘ اختر حسن کی محبوبہ تھی عشق تھا جنون تھا۔ آج یہ کتاب ’’کچھ یادیں کچھ باتیں‘‘ ایسا جلوہ بکھیر رہی ہے کہ پتہ ہی نہیں چلتا کہ یہ آج کی کتاب ہے یا کل کی۔ وسائل ہوتے ہوئے اس کے استعمال کا طریقہ آنا بھی ضروری ہے اور اسی ہنر کا استعمال کرتے ہوئے ایمن نے اس کتاب کو شائع کرنے کے لئے شجاعت علی راشد کی خدمات سے استفادہ کیا ہے۔جناب عزیز احمد نے کہا اختر حسن کے ساتھ بلٹز میں کام کرنے کا موقع ملا تھا۔ صحافی، ادیب اور سماجی جہدکار کے علاوہ وہ ایک عظیم انسان تھے۔ انہوں نے صحافت کو شرافت سکھائی تھی۔ جناب عرشی اختر نے اپنے والد کے ساتھ گزارے ہوئے واقعات کو بہت ہی پرلطف انداز میں پیش کیا جس میں لطیفے اور اپنی اولاد کے بارے میں اختر حسن کے ذریعہ کی گئی پیشن گوئیوں کا بھی ذکر تھا جو مستقبل میں سچ ثابت ہوئیں۔محترمہ رفیعہ نوشین نے کتاب کے بارے میں باب واری جامعہ، مفصل پرمغز تبصرہ بہترین پیرائے میں پیش کیا۔ ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز نے خیر مقدم کیا۔ڈاکٹر شجاعت علی راشد نے کہا کہ ایمن کی ایماء پر اس کتاب کو شائع کرنے اور اس کو ترتیب دینا ان کے لئے باعث اعزاز ہے اور اس میں وہ کامیاب بھی رہے۔ سید خالد شہباز نے نظامت کے فرائض انجام دیئے۔ محمد شعیب رضا خان کی قرأت کلام پاک سے تقریب کا آغاز ہوا جس میں کئی نامور شخصیات نے شرکت کی۔