کورونا پر قابو پانے کے لیے غسل کے وقت احتیاط اور تدفین میں عجلت ناگزیر
حیدرآباد۔مسلمان میتوں کے غسل میں نہ کی جانے والی احتیاط کے سبب کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا نادانستگی میں سبب بننے لگے ہیں ۔ شہر حیدرآباد میں ہونے والی اموات خواہ وہ کورونا وائرس کے سبب ہوں یا غیر کورونا وائرس ہوں ان کے غسل میں مکمل احتیاط کے علاوہ میت میں شرکت کے دوران احتیاطی تقاضوں کو ملحوظ رکھنا ناگزیر ہے کیونکہ میتوں میں شرکت کے دوران بغلگیر ہونا اور مصافحہ کرنا معمول ہے اور پسماندگان کو پرسہ دینے کیلئے ایسا کیا جاتا ہے جو کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتا ہے کیونکہ قومی سطح پر یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ ملک میں کورونا وائرس کے مریضوں میں 80 فیصد ایسے مریض ہیں جن میں کوئی علامات نہیں ہیں اسی لئے میت کورونا ہو یا غیر کورونا میت کے غسل میں احتیاط کے علاوہ تدفین میں عجلت کی جانی چاہئے ۔شہر حیدرآباد کے حالات معمول پر آنے تک میتوں میں ناگزیر صورت میں ہی شرکت کے علاوہ جلد از جلد تجہیز و تکفین کے عمل کو مکمل کرنے کے انتظامات کئے جانے چاہئے علاوہ ازیں میتوں کے غسل کے دوران گلوز‘ مکمل N95 ماسک اور واٹر پروف کوٹ یا پی پی ای کٹ پہن کر غسل دینے کے علاوہ میت میں شرکت کرنے والوں کو واپسی کے ساتھ ہی فوری غسل کرنے کی ضرورت ہے۔شہر میں ہونے والی اموات میں کورونا اور غیر کورونا وائرس اموات کا فرق کیا جانا کافی مشکل ہے کیونکہ بیشتر خانگی دواخانوں میں ہونے والی اموات میں علامات موجود ہونے کے باوجود میت حوالہ کی جا رہی ہے کیونکہ ان میتوں کو کورونا وائرس کی توثیق نہیں ہوئی ہے یا ان کا معائنہ ہی نہیں کیا گیا ہے۔بعض میتوں کے غسل اور تدفین کے بعد ان کی کورونا وائرس کی رپورٹ موصول ہورہی ہیں اور انہیں کورونا وائرس کی تصدیق ہونے لگی ہے جو کہ افراد خاندان میں خوف کا ماحول پیدا کررہی ہے۔اسی لئے میتوں میں شرکت ناگزیر حالات میں کرنے کے علاوہ تمام احتیاطی امور کا خیال رکھا جائے تاکہ میتوں کے ذریعہ کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکا جاسکے ۔کورونا وائرس کے سبب ہونے والی اموات کیلئے تیار کئے گئے تمام پروٹوکول کی پابندی کی جارہی ہے جبکہ کئی میتوں کو غیر کورونا تصور کرتے ہوئے احتیاط کرنے سے گریز کیا جارہا ہے جو کہ انتہائی خطرناک اور مرض کے پھیلاؤ کا سبب بھی بننے لگا ہے ۔
