جنتادل یو کے قومی ترجمان کے سی تیاگی مستعفی

   

پارٹی موقف سے الگ بیانات اور مرکز پر تنقید اہم وجہ!

پٹنہ : جنتادل یو کے سینئر رہنما اور پارٹی کے قومی ترجمان کے سی تیاگی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے جس سے سیاسی گہما گہمی بڑھ گئی ہے۔ حالانکہ انہوں نے اپنا استعفیٰ نجی وجوہات سے دینے کی بات کہی ہے لیکن ان کے اس فیصلے کے بعد قیاس آرائیوں کا بازار گرم ہو گیا ہے۔ جنتادل یو کے جنرل سکریٹری آفاق احمد خان نے کے سی تیاگی کی جگہ راجیو رنجن کو پارٹی کا نیا قومی ترجمان بنائے جانے کی جانکاری دی ہے۔قیاس لگایا جا رہا ہے کہ تیاگی کے استعفیٰ کے پیچھے اور بھی کئی وجوہات پوشیدہ ہیں جن میں ان کے بیانات کی وجہ سے پارٹی کے اندر اور باہر پیدا ہوئے اختلاف ہو سکتے ہیں۔ الزام لگایا جارہاہے کہ کے سی تیاگی کچھ وقت سے پارٹی کے اصل موقف سے الگ ہوگئے تھے اور انہوں نے پارٹی قیادت یا دیگر سینئر رہنماؤں سے صلاح و مشورہ کیے بغیر ہی اپنے بیان جاری کررہے تھے۔ اس وجہ سے پارٹی میں ان کے خلاف ناراضگی پیدا ہوگئی تھی۔کے سی تیاگی کے بیانات سے این ڈی اے کے اندر بھی اختلاف کی خبریں سامنے آئیں تھی جس میں خاص کر خارجہ پالیسی کے معاملے پر ان کے ذریعہ انڈیا اتحاد کے رہنماؤں کی تائید شامل تھی۔ انہوں نے اسرائیل کو اسلحہ کی سپلائی بند کرنے کے ایک مشترکہ بیان پر اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ دستخط کیے تھے۔ جس کے بعد پارٹی میں ان کے خلاف زبردست ناراضگی پیدا ہوگئی تھی۔ایس سی/ ایس ٹی ریزرویشن پر بھی تیاگی نے اپنا موقف ظاہر کیا تھا۔ اس کے علاوہ لیٹرل انٹری پر انہوں نے مرکزی حکومت کے فیصلے پر تنقید کی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ ان کے یہ بیانات رہنماؤں کو ناگوار گزرے اور پارٹی قیادت کی شبیہ خراب ہونے لگی جس کے بعد ان کے استعفیٰ کو منظور کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔