16 اکٹوبر کو مسلم جماعتوں کے ساتھ اجلاس، شرد پوار ، نتیش کمار اور کانگریس سے ربط میں
حیدرآباد۔یکم؍ اکٹوبر، ( سیاست نیوز) کرناٹک میں جنتا دل سیکولر کی جانب سے بی جے پی کے ساتھ مفاہمت کے فیصلہ پر نہ صرف مسلمانوں بلکہ جے ڈی ایس کے مسلم قائدین میں ناراضگی پائی جاتی ہے۔ سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیوے گوڑا کی زیر سرپرستی جنتا دل سیکولر نے حالیہ اسمبلی انتخابات میں بدترین شکست کے بعد بی جے پی سے مفاہمت کا فیصلہ کیا اور ان کے فرزند سابق چیف منسٹر ایچ ڈی کمارا سوامی نے امیت شاہ اور جے پی نڈا سے ملاقات کی۔ دلچسپ بات یہ رہی کہ جنتا دل سیکولر کے ریاستی صدر سی ایم ابراہیم کو اس فیصلہ سے تاریکی میں رکھا گیا۔ جنتا دل سیکولر کے کئی مسلم قائدین نے اپنے استعفی کا اعلان کردیا ہے۔ سابق مرکزی وزیر سی ایم ابراہیم بھی بی جے پی سے دوستی کے فیصلہ کے خلاف ہیں اور انہوں نے 16 اکٹوبر کو کرناٹک کی مسلم جماعتوں اور تنظیموں کے علاوہ جنتا دل سیکولر کے مسلم قائدین اور کارکنوں کا اجلاس طلب کیا ہے۔ اجلاس میں آئندہ کی حکمت عملی طئے کی جائے گی۔ سی ایم ابراہیم نے کہا کہ یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ وہ بی جے پی سے مفاہمت کے فیصلہ سے خوش ہیں جبکہ انہوں نے کمارا سوامی سے کھل کر اپنی ناراضگی ظاہر کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی زندگی میں وہ کسی کے آگے جھکے نہیں ہیں اور نہ قوم کو جھکنے دیں گے۔ عہدہ اور سیاسی مفادات سے زیادہ قوم کا وقار اور اس کی عزت ان کیلئے اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنتا دل سیکولر کی بی جے پی سے دوستی کے مسئلہ پر انہوں نے مسلم متحدہ محاذ کے قائدین سے مشاورت کا فیصلہ کیا ہے۔ جماعت اسلامی کے قائدین سے وہ بات چیت کرچکے ہیں۔ سی ایم ابراہیم نے بتایا کہ 16 اکٹوبر کو ہم خیال جماعتوں اور تنظیموں اور مسلم شخصیتوں سے مشاورت کے بعد ہی آئندہ کا لائحہ عمل طئے کیا جائے گا۔ تمام اضلاع سے تعلق رکھنے والے والے مسلم نمائندوں کو بھی وہ اجلاس میں مدعو کررہے ہیں۔ سی ایم ابراہیم نے کہا کہ شرد پوار ، نتیش کمار عام آدمی پارٹی اور کانگریس قائدین سے ربط میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کرناٹک میں جنتا دل سیکولر تیسرے مضبوط محاذ کے طور پر اپنی شناخت بنانے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔ مجھ سے مشاورت کے بغیر ہی کمارا سوامی نے بی جے پی قیادت سے ملاقات کی۔ سی ایم ابراہیم نے کہا کہ وہ مذہب اور ذات پات کی سیاست پر یقین نہیں رکھتے اور کرپشن اور فرقہ واریت سے وہ ہمیشہ پاک رہے ہیں۔ ملک میں 34 کروڑ مسلمان ہیں اور وہ تیسری طاقت بن کر حکومتوں سے اپنے مطالبات منوا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان غریب ضرور ہیں لیکن ایمان کے امیر ہیں۔ موجودہ حالات میں مسلمانوں کو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔ تمام جماعتوں سے مشاورت کے بعد مسلمانوں کے حق میں فیصلہ کیا جائے گا۔