’جنتا کرفیو‘ کے دوران بھی شاہین باغ احتجاج جاری

,

   

اتوار کو تمام شہریوں کو گھروں میں رہنے وزیراعظم کی اپیل کے بعد شاہین باغ احتجاج ختم کرانے کیلئے دباؤ

نئی دہلی 20 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) شاہین باغ میں احتجاج کررہی خواتین نے اتوار کو جنتا کرفیو کے دوران بھی اپنا احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے اتوار کے روز اپنے گھروں میں رہنے عوام سے کی گئی اپیل کے دوسرے دن شاہین باغ کے احتجاجیوں نے اِس اپیل کو قبول کرنے سے انکار کیا۔ وزیراعظم نے شہریوں سے خواہش کی تھی کہ وہ صبح 7 بجے سے رات 9 بجے تک ازخود کرفیو پر عمل کریں۔ شاہین باغ کی خواتین سی اے اے کیخلاف گزشتہ 100 دن سے زیادہ احتجاج کررہی ہیں۔ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف اُن کا یہ احتجاج وسط ڈسمبر سے شروع ہوا۔ پیر کے دن دہلی حکومت نے کہا تھا کہ 50 افراد سے زائد کے ہجوم کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ مہلک مرض کورونا وائرس کی وباء کے پیش نظر دہلی میں احتیاطی اقدامات کئے جارہے ہیں۔ چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال نے شاہین باغ سے بھی اپیل کی تھی کہ وہ اپنا احتجاج ختم کریں۔ اُنھوں نے 20 سے زیادہ افراد کے اجتماع کو ممنوع قرار دیا تھا۔ جمعہ کے دن شاہین باغ کے احتجاجیوں نے یہ واضح کیا کہ اِس احتجاج میں 50 سے زیادہ خواتین موجود نہیں رہیں گی اور اِن کا یہ احتجاج جاری رہے گا۔ ایک خاتون نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی خواہش پر بتایا کہ اتوار کے دن ہم چھوٹے خیموں میں بیٹھ کر اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔ صرف دو خواتین ہر ایک خیمہ میں بیٹھی رہیں گی اور خود کو ایک دوسرے سے ایک میٹر دور رکھیں گی تاکہ کورونا وائرس کی وباء کے خلاف احتیاطی اقدام کیا جاسکے۔ ایک اور احتجاجی خاتون رضوانہ نے زرین نے کہاکہ اِس احتجاج میں حصہ لینے والی خواتین ہر طرح کی احتیاط برت رہی ہیں۔ وہ برقعہ زیب تن کررہی ہیں۔ پابندی سے ہاتھ دھو رہی ہیں اور صاف صفائی کو اپنی زندگی کا حصہ بناچکی ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ ہم روزانہ پانچ وقت کی نماز ادا کرتے ہیں اور پانچ وقت وضو کرنے سے ہمارے ہاتھ پیر صاف رہتے ہیں۔ ایک اور احتجاجی خاتون ریتو کوشک نے کہاکہ 70 سال سے زائد عمر کی خواتین اور 10 سال سے کم عمر بچوں کو احتجاج کے مقام پر بیٹھنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ یہ خواتین کارپٹ پر نہیں بیٹھیں گی۔ تاثیر احمد جو اِس احتجاج کے کلیدی منتظمین میں سے ایک ہیں، کہاکہ احتجاجی مقام پر سنیٹائزرس اور ماسک بھی فراہم کئے جارہے ہیں۔