نئی دہلی: ملک کے دارالحکومت دہلی کے جنتر منتر علاقے میں مبینہ طور پر ایک ریالی (مارچ ) میں فرقہ وارانہ نعرے لگائے گئے۔ اس ’مارچ‘ کی ویڈیو مبینہ طور پر اتوار کو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ مارچ اس کی اجازت کے بغیر منعقد کیا گیا تھا۔ اس مارچ کا اہتمام سپریم کورٹ کے وکیل اشونی اُپادھیائے نے کیا تھا۔ویسے اُپادھیائے کا کہنا ہے کہ انہیں ویڈیو کے بارے میں معلومات نہیں ہے۔ صرف پانچ یا چھ لوگ نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے نعرے نہیں لگانے چاہیے تھے۔سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں مسلمانوں کو ’رام،رام‘ کہنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ دہلی کے ایک اہم علاقے جنتر منتر میں منعقدہ اس مظاہرے میں کچھ ارکان نعرے لگا رہے تھے، ’ہندوستان میں رہنا ہوگا، جئے شری رام کہنا ہوگا‘۔یہ جگہ ملک کی پارلیمنٹ اور اعلیٰ سرکاری دفاتر سے صرف چند کلومیٹر دور ہے۔ دہلی پولیس نے اس معاملے میں ایک کیس درج کیا ہے اور ویڈیو میں دکھائے گئے لوگوں کی شناخت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ نفرت انگیز تقاریر کیلئے ’بدنام‘ پجاری نرسمہانند سرسوتی کی موجودگی میں نعرے لگائے گئے۔ یہ مظاہرہ قدیم زمانے سے رائج قوانین کو ختم کر کے یکساں قانون کے مطالبے کیلئے منعقد کیا گیا تھا۔پولیس کے مطابق کورونا قوانین کی وجہ سے اس پروگرام کی اجازت نہیں دی گئی تھی ۔