جنریشن ایکس اور ملینیلس میں معلومات کا خزانہ

   

کتابوں کا مطالعہ کرنے والی آخری نسل، موجودہ نسل گوگل اور مصنوعی ذہانت کے ایپس
حیدرآباد۔ 7۔ مئی ۔ (سیاست نیوز) ملک میں 40تا50 سال عمر کے درمیان جو افراد ہیں وہ دراصل ایسی نسل سے تعلق رکھتے ہیں جو کئی تبدیلیوں کی شاہد ہیں۔ 40تا 50 سال کے افراد نے نہ صرف مٹی کے گھروندے بنائے ہیں اور پانی میں کاغذ کی کشتیاں چلائی ہیں بلکہ انفارمیشن ٹکنالوجی کے دور کی ابتداء اور ارتقاء سے بھی اس عمر کے افراد نے استفادہ کرتے ہوئے خود کو حالات سے ہم آہنگ رکھا ہے۔ اس عمر کے افراد نے کرفیوزدہ علاقہ بھی دیکھا ہے اور کورونا وائرس کے دوران لاک ڈاؤن کی صورتحال کا بھی سامنا کیا ہے۔ گلی کوچوں سے میدان تک ان کے کھیل ہوا کرتے تھے اور موسیقی میں غزلیات اور قوالیوں کے علاوہ رومانی نغمہ بھی ان کی پسند ہوا کرتے تھے ۔ 40تا50 سال کی عمر کے افراد 1965تا1980 کے درمیان پیدا ہونے والوں کو جن کی عمریں اب 45تا60 سال کے درمیان ہیں انہیں انگریزی میں Gen X کہا جانے لگا ہے اور 1981تا1996 کے درمیان پیدا ہونے والے جن کی عمریں اب 29تا44 سال کے درمیان ہیں انہیں Millennials کہا جا رہاہے اور اب جو نسل چل رہی ہے یعنی جن کی عمریں 13تا18 سال ہیں اور جو 1997تا 2012 کے درمیان پیدا ہوئے ہیں انہیں Gen Z کہا جا رہاہے ۔ Gen Z میں شامل نوجوانوں میں بڑی تعداد ایسی ہے جو Millennials اور Gen X کے دور سے واقف ہی نہیں ہے جبکہ ان دو نسلوں کے تجربات کا مشاہدہ کیا جائے تو وہ دنیا کی ترقی بالخصوص دنیا کو ٹیلی فون سے موبائل ‘ ٹرین سے ہوائی جہاز ‘ بلکہ سائیکل سے موٹر کاروں کے دور میں تبدیل ہوتے ہوئے دیکھنے والے ہیں ۔ ہندستان میں موجود اس نسل کو اب ایک اور اعزاز حاصل ہوا ہے کہ اس عمر کے لوگوں نے جنگی تیاریوں کے طور پر کی جانے والی تمثیلی مشقوں کا بھی مشاہدہ کرلیا ہے کیونکہ ملک بھر کے مختلف شہروں میں منعقد کی جانے والی ان تمثیلی مشقوں کا انعقاد 54سال بعد کیا گیا ہے ۔ دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد کے کئی مقامات پر ہونے والی ان مشقوں کے متعلق عوام میں جوش و خروش دیکھا گیا اور شہر کے کئی چوراہوں پر پولیس کی نگرانی میں حملہ کی صورت میں صورتحال پر قابو پانے کے اقدامات کی تربیت کا عملی مشاہدہ کیا گیا۔ 40تا50 سال کی عمر کے افراد نے کمپیوٹر میں فلاپی کے دور سے اب یو ایس بی ڈرائیو تک کے استعمال کو دیکھا ہے بلکہ کمپیوٹر سے منسلک انٹرنیٹ سے اب موبائل فون میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں میں بھی ان کا شمار ہونے لگا ہے۔ Gen X اور Millennials جن خصوصیات کے حامل ہیں اب وہ تجربہ کار اور معلومات کے خزانہ کے طور پر روئے زمین پر موجود ہیں کیونکہ یہ شائد اب آخری نسل ہے جو کتابوں اور مطالعہ کے ذریعہ معلومات حاصل کی ہوئی ہے جبکہ موجودہ نسل کی معلومات کا خزانہ Google کے علاوہ مصنوعی ذہانت کے ایپ بن چکے ہیں اور وہ تحقیق بھی اپنے طور پر کرنے کے بجائے ان عصری سہولتوں کا سہارا لینے والوں میں شامل ہو چکے ہیں۔3