جوہانسبرگ: جب سے غزہ میں اسرائیلی بمباری سے بچوں اور ، عورتوں اور ہزاروں فلسطینیوں کی ہلاکتوں کے علاوہ ہاسپٹلوں پر بمباری اور ان کے اندر تک اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی خبریں میڈیا نے دینا شروع کی ہیں۔ اسرائیل کو سفارتی سطح پر ہر روز اصول پسند ملکوں کی طرف سے شرمندگی کا سامنا کر پڑا رہا ہے۔جنوبی افریقہ کی حکمران جماعت افریقن نیشنل کانفرنس نے بھی اسی وجہ سے اسرائیل کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات ختم کرنے اور جنوبی افریقہ میں قائم سفارتخانہ بند کرنے کے مطالبہ کی حمایت کر دی ہے۔یہ حمایت اس وقت سامنے آئی جب جنوبی افریقہ کی اپوزیشن جماعت ‘ اکنامک فریڈم فائیٹرز ‘ نے پارلیمان سے اس طرح کی ایک قرار داد منظور کرانیکا فیصلہ کیا۔ تو حکمران جماعت نے بھی اپوزیشن کی حمایت کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔جنوبی افریقہ کے عظیم قائد نیلسن منڈیلا فلسطینی کاز کے شروع سے حامی اور نسل پرستی کے سخت مخالف رہے ہیں۔ کیونکہ نسل پرستی کا سامنا تو جنوبی افریقہ کے لوگوں کو بھی کرنا پڑا تھا۔نیلسن منڈیلا کے وقتوں سے جنوبی افریقہ فلسطین کاز کیا حامی ملک مانا جاتا ہے۔