واشنگٹن ۔جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں حالیہ عرصے میں بہت سی سیاسی تبدیلیاں رْونما ہوئی ہیں۔ ہندوستان کے چین اور دیگر ہمسایہ ملکوں سے تعلقات میں سرد مہری کے بعد چین کے ایران کے ساتھ اربوں ڈالر کے اقتصادی معاہدے کے بعد خطے کی سیاست ایک نیا رْخ اختیار کر گئی ہے۔چند روز قبل پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے بنگلہ دیش کی وزیر اعظم حسینہ واجد سے بھی ٹیلی فون پر بات کر کے تعلقات میں بہتری لانے کی پیشکش کی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا میں چین اپنا اثر و رْسوخ بڑھانے کے علاوہ ہندوستان کے قریب سمجھے جانے والے ملکوں سے تعلقات کو فروغ دے کر امریکہ کو چیلنج کر رہا ہے۔حال ہی میں ایران نے بھارت کو چاہ بہار ریل منصوبے سے الگ کر کے چین کے ساتھ 25 سال پر مشتمل 400 ارب ڈالر کے اقتصادی معاہدے پر اتفاق کیا تھا۔چاہ بہار بندرگاہ کا یہ منصوبہ تقریباً نصف صدی پرانا ہے ایران کی بندرگاہ چاہ بہار سے زاہدان اور افغانستان کی سرحد تک اس ریلوے منصوبے پر 2016 میں بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی، ایران کے صدر حسن روحانی اور افغانستان کے صدر اشرف غنی نے دستخط کیے تھے۔یہ معاہدہ پاکستان اور چین کے درمیان گوادر بندرگاہ کی تعمیر اور ترقی کیلئے طے پانے والے معاہدے کے بعد عمل میں آیا تھا۔ عالمی تجارت کی اہم ترین گزرگاہیں خلیج فارس اور بحیرہ ہند کا آپس میں اکثر موازنہ کیا جاتا ہے۔ ماہرین ان دونوں بندرگاہوں کو ہندوستان اورچین میں جاری مقابلے کی دوڑ کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔گوادر بندرگاہ کی تکمیل کے بعد اب یہ پاکستان، افغانستان اور چین کی سمندری تجارت کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
اسے دنیا کی سب سے زیادہ گہری بندرگاہ کہا جاتا ہے۔ دوسری طرف ایران پر عائد بین الاقوامی پابندیاں چاہ بہار اور اس کو ملانے والے زمینی راستوں کی تعمیر میں حائل رہی ہیں۔لیکن اب ہندوستان کی جانب سے اس منصوبے میں تاخیر کے باعث ایران نے بھارت کو اس سے علیحدہ کر دیا۔اس دوران چین اور ایران نے ایک 25 سالہ اسٹرٹیجک معاہدے کا اعلان کیا جس کے تحت چین ایران میں 400 ارب ڈالر کی سرمایہ کار ی کرے گا۔ ماہرین کے مطابق یہ دو بڑے اعلانات خطے میں بہت سی تبدیلیوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ایران اور ہندوستان کے تعلقات میں کئی برس سے گرمجوشی رہی ہے۔ ایران پر امریکہ کی طرف سے عائد پابندیوں کے باوجود ہندوستان ایران سے خام تیل برآمد کرتا رہا ہے۔ایران کی امریکی پابندیوں کا مقابلہ کرنے کیلئے کسی بھی ملک سے تجارتی روابط بڑھانا اور اس کے ذریعے زر مبادلہ کمانا ایک اہم ترجیح رہی ہے۔ اس تناظر میں ماہرین کے مطابق ایران کا بھارت کو چاہ بہار منصوبے سے الگ کرنے کا فیصلہ کئی حوالوں سے اہمیت کا حامل ہے۔جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے معاملات پر نظر رکھنے والے ماہر کامران بخاری کہتے ہیں کہ ایک ایسے وقت میں جب ہندوستان کے امریکہ سے تعلقات کئی شعبوں میں بڑھ رہے ہیں نئی دہلی کو واشنگٹن کی جانب سے شدید دباؤ کا سامنا ہے کہ وہ ایران سے تعلقات استوار نہ کرے۔
