تلنگانہ کو ایک روپیہ آمدنی میں محض 40 پیسے کی واپسی ۔ یو پی کو ایک روپئے کے بدلے 7 اور بہار کو 6 روپئے کی ادائیگی ۔سدرن رائزنگ سمٹ میں ریونت ریڈی کا دعوی
حیدرآباد 25 اکٹوبر(سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مرکز جنوبی ہند کی ریاستوں کو ٹیکس سے ہونے والی آمدنی میں ان کا جائز حصہ ادا کرنے کے بجائے ریاست سے ہونے والی ایک روپیہ کی آمدنی میں محض 40 پیسے واپس کر رہی ہے ۔ جنوبی ریاستوں سے مرکزی حکومت کا رویہ سوتیلا ہے جبکہ اترپردیش کو ایک روپیہ کے بدلے 7 روپئے اور بہار کو 1 روپئے کی جگہ 6 روپئے اداکئے جا رہے ہیں۔ چیف منسٹر نے اے بی پی کی جانب سے منعقدہ ’سدرن رائسنگ سمٹ‘ سے خطاب میں بتایا کہ تلنگانہ میں حکومت سے ریاست کی ترقی کے منصوبوں میں بی جے پی اور بی آر ایس دونوں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تلنگانہ میں کانگریس اقتدار میں آتے ہی حکومت کو بیدخل کرنے کی سازش کی گئی جسے بی آر ایس ارکان اسمبلی نے ناکام بنایاہے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ مرکزی حکومت اور بی جے پی ملک بھر میں صرف اقتدار چاہتے ہیں اور ملک کی ترقی کے متعلق کچھ بھی کرنے سے قاصر ہے۔انہو ںنے بتایا کہ ملک میں بڑے پراجکٹس کا مشاہدہ کیا جائے تو یہ تمام پراجکٹس کانگریس دور میں شروع کئے گئے اور کانگریس نے ہی ملک میں آئی ٹی اور کمیونیکیشن انقلاب پیدا کیا ہے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ حکومت سے فیوچر سٹی ‘ وی ایل ایف راڈراسٹیشن ‘ ریجنل رنگ روڈ ‘ کے علاوہ موسیٰ ندی پراجکٹ کو بی جے پی اور بی آر ایس کی جانب سے روکنے کی کوشش کی جار ہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کا تعلق شمالی ریاست گجرات سے ہے اسی لئے شمالی ریاستوں پر مرکزی حکومت کی توجہ ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ تلنگانہ میں حکومت نے باپو گھاٹ کو عالمی معیار کے ’گاندھی سنٹر‘ میں تبدیل کرنے کا منصوبہ تیارکیا ہے اور عیسیٰ ندی و موسیٰ ندی کا جہاں سنگم ہوتا ہے وہیں باپو گھاٹ پر حکومت سے گاندھی جی کا مجسمہ نصب کرنے کا فیصلہ کیاگیا۔ انہوں نے بتایا کہ تلنگانہ ‘گجرات سے مسابقت کرکے آگے نہ بڑھ جائے اسی لئے بی جے پی اور بی آر ایس ترقیاتی منصوبوں میں رکاوٹ پیدا کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ریاستی حکومت سے گاندھی کے نظریات کو فروغ دینے عالمی معیار کے گاندھی سنٹر کے قیام اور مجسمہ کی تنصیب کا فیصلہ کیا گیا ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ریاستی حکومت نے تلنگانہ میں موسیٰ ندی کے احیاء اور اس کے بہاؤ کو بہتر بنانے کی منصوبہ بندی کی لیکن وہ پارٹی اس کی مخالفت کر رہی ہے جو گجرات میں برسراقتدار ہے اور خود احمد آباد میں بی جے پی نے سابرمتی ریورفرنٹ کی تعمیر کی ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ حکومت تلنگانہ نے ریاست کی ہمہ جہت ترقی کو یقینی بنانے کا منصوبہ تیار کیا ہے لیکن اپوزیشن سے حکومت کو متزلزل کرکے ریاست کی ترقی میں رکاوٹ پیدا کی جار ہی ہے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ شہر حیدرآباد میں باپو گھاٹ اور موسیٰ ندی کی ترقی کے منصوبہ میں وہی لوگ رکاوٹ پیدا کرسکتے ہیں جو گاندھی کے نظریات کے قائل نہیں ہیں۔ انہو ںنے بتایا کہ ملک میں کانگریس نے اپنے اقتدار میں جو ترقیاتی منصوبہ تیار کرکے عمل کیا ہے اسی کے نتیجہ میں آج ہندستانی معیشت مستحکم ہے۔ ریونت ریڈی نے پنڈت جواہر لعل نہرو‘ محترمہ اندرا گاندھی ‘ راجیو گاندھی ‘ پی وی نرسمہا راؤ اور ڈاکٹر منموہن سنگھ کی بہ حیثیت وزیر اعظم کارکردگی کی ستائش کی اور کہا کہ راجیو گاندھی نے اپنے دور حکومت میں آئی ٹی اور مواصلاتی نظام میں اصلاحات کے علاوہ حق رائے دہی کی عمر کو 21 سے کم کرکے 18 سال کرنے کے فیصلہ کیا ۔ اس فیصلہ سے ہندستان میں جمہوریت کو استحکام ملا ہے۔ ریونت ریڈی نے ڈاکٹر منموہن سنگھ اور پی وی نرسمہا راؤ کی معاشی اصلاحات کا تذکر ہ کیا اور کہا کہ ان دونوں نے معاشی اصلاحات کے ذریعہ ملک کو معاشی تباہی سے بچانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ میں حکومت نے ترقیاتی منصوبوں پر عمل کے ذریعہ اپوزیشن کی صفوں میں کہرام پیدا کردیا ہے جو بی جے پی اور بی آر ایس کیلئے صدمہ سے کم نہیں ہے۔ انہو ںنے بتایا کہ سابق چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے 10 سالہ اقتدار میں 10 مرتبہ بھی سیکریٹریٹ نہ آتے ہوئے یہ ثابت کردیا کہ وہ عوام کے دیئے گئے اقتدار کی قدر نہیں کرتے ۔ عوام نے اب انہیں قائد اپوزیشن بنایا تب بھی وہ بہ مشکل 10 منٹ اسمبلی اجلاس میں شرکت کرکے یہ ثابت کردیا ہے کہ انہیں جمہوریت پر یقین نہیں ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ تلنگانہ کو گجرات سے پیچھے رکھنے مرکز سے ترقیاتی پراجکٹس میں رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں جبکہ خود بی جے پی و بی آر ایس نے بھی ان منصوبوں پر کام شروع کیا تھا لیکن اب جبکہ کانگریس نے ان پر عمل کا آغاز کیا ہے تو یہ رکاوٹیں پیدا کر رہے ہیں۔ چیف منسٹر نے مرکزی حکومت کو فنڈس کی فراہمی میں نا انصافیوں پر تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ جن ریاستوں سے آمدنی نہیں ہے ان ںکو مرکزی فنڈس میں بڑا حصہ دیا جا رہا ہے ۔ 3