واشنگٹن 12جولائی (یو این آئی) امریکہ کی ایک وفاقی عدالت نے پایا کہ محکمہ ہوم لینڈ سیکورٹی (ڈی ایچ ایس)، لاس اینجلس میں امیگریشن چھاپوں کے دوران بغیر کسی ممکنہ وجہ کے لوگوں کو روک رہا ہے اور گرفتار کر رہا ہے اور محکمے کو حکم دیا ہے کہ صرف نسل، زبان یا پیشہ کی بنیاد پر افراد کو حراست میں لینا بند کیا جائے ۔سابق صدر جو بائیڈن کے ذریعہ مقرر کردہ امریکی ڈسٹرکٹ جج مام ایووسی-مینسہ فرمپونگ نے حکم دیا کہ ڈی ایچ ایس افسران کے لیے رہنما اصول تیار کریں تاکہ وہ ‘‘معقول شکوک’’ کا تعین کر سکیں۔یہ فیصلہ جنوبی کیلیفورنیا کے اے سی ایل یو کی جانب سے ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف پانچ افراد اور امیگریشن ایڈوکیسی گروپس کی جانب سے مقدمہ دائر کرنے کے بعد سامنے آیا ہے ، جس میں یہ الزام لگایا گیا تھا کہ ڈی ایچ ایس نے غیر آئینی گرفتاریاں کی ہیں۔ جج فریمپونگ نے اپنے حکم میں کہا کہ انتظامیہ یہ معلومات فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے کہ اس نے کس بنیاد پر گرفتاریاں کیں۔جج نے ڈی ایچ ایس کو گرفتاری کے دستاویز اور درخواست گزاروں کے وکلاء کو فراہم کرنے کا بھی حکم دیا ہے ۔