نویں اور دسویں جماعتوں کے ساتھ جونیر کالجس میں کلاسیس کا آغاز ، وزیر تعلیم سبیتا اندرا ریڈی کا ردعمل
حیدرآباد :۔ محکمہ تعلیم سالانہ امتحانات کے انعقاد سے تین ماہ قبل اسکولس میں تعلیمی سرگرمیاں شروع کرنے پر سنجیدگی سے غور کررہی ہے ۔ حکومت کی منظوری حاصل ہونے پر آئندہ سال 4 جنوری سے پہلے مرحلے میں نویں ، دسویں ، جونیر کالجس کے ریگولر کلاسیس شروع کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے ۔ اس کے بعد مرحلہ واری سطح پر چھٹویں تا آٹھویں کلاسیس کے آغاز کے بعد اول تا پانچویں جماعت کے ریگولر کلاسیس شروع کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے ۔ ریاستی وزیر تعلیم سبیتا اندرا ریڈی نے کہا کہ محکمہ تعلیم کی جانب سے تیار کردہ تجاویز چیف منسٹر کے سی آر کو روانہ کردئیے گئے ہیں ۔ اگر چیف منسٹر اس کو منظوری دیتے ہیں تو محکمہ تعلیمات ان تجاویز پر عمل کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے ۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ آن لائن کلاسیس سے طلبہ پوری طرح مطمئن نہ ہونے کی اطلاعات وصول ہورہی ہیں ۔ سرکاری اسکولس ٹیچرس کی تنظیموں ، قائدین ٹیچرس حلقہ سے منتخب ہونے والے ارکان قانون ساز کونسل اور خانگی تعلیمی انتظامیہ کی جانب سے اسکولس کا آغاز کرنے کی نمائندگیاں کی جارہی ہیں ۔ کوویڈ 19 کے پیش نظر محکمہ تعلیمات نے دسویں جماعت کے امتحانی پیپرس کو 11 سے گھٹا کر 6 کرنے کی تجویز پیش کی ہے ۔ جس کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جارہا ہے ۔ عہدیداروں نے بتایا کہ امتحانی اوقات میں کوئی تبدیلی نہیں رہے گی ۔ دسویں جماعت کے امتحانات اس مرتبہ مارچ کے بجائے مئی میں منعقد کرنے کی بھی تجویز زیر غور ہے ۔ جب کہ انٹرمیڈیٹ کے امتحانات اپریل کے دوسرے ہفتہ میں منعقد کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے ۔ اس سے قبل انٹر میڈیٹ طلبہ کے پراکٹیکل امتحانات کا انعقاد کیا جائے گا ۔ جنوری کے پہلے ہفتہ سے جونیر کالجس کا آغاز ہونے پر ریگولر کلاسیس کے ساتھ پراکٹیکل کی بھی تعلیم دی جائے گی ۔ تمام تفصیلات چیف منسٹر آفس کو روانہ کردئیے گئے ہیں ۔ سبیتا اندرا ریڈی نے کہا کہ ٹیچرس کے تقررات سے قبل ٹیٹ کا انعقاد کرنے کے لیے حکومت پوری طرح تیار ہے ۔ اس کے عمل کا آغاز ہوگیا ہے ۔ جلد از جلد شیڈول کی اجرائی کا امکان ہے ۔ اس کے لیے عہدیداروں کو ہدایت دے دی گئی ہے ۔ اس سے ٹیچرس ٹریننگ مکمل کرنے والے 4 لاکھ افراد کو فائدہ ہوگا ۔ ٹیچرس کے ترقیوں اور تبادلوں کا بھی سنجیدگی سے جائزہ لیا جارہا ہے ۔۔
