بی آر ایس کے قائدین نے اقلیتی کمیشن سے فوری مداخلت کی اپیل کی
حیدرآباد ۔16 ۔ فروری (سیاست نیوز) بی آر ایس نے ریاستی الیکشن کمیشن کو باضابطہ شکایت پیش کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ جنگاؤں میونسپلٹی میں چیرمین اور وائس چیرمین کے انتخاب کے دوران پولیس مشنری کی غلط استعمال کیا گیا اور ایک اقلیتی خاتون کونسلر کو اپنے ووٹ کا حق استعمال کرنے سے روکا گیا۔ بی آر ایس کے قائدین محمد مسیح اللہ خاں ، عبدالمقیت چندا ، ایم اے قیوم انصاری نے تلنگانہ اقلیتی کمیشن کو بھیجی گئی اپنی شکایت میں بتایا کہ جنگاؤں میونسپلٹی کی 28 ویں وارڈ کی منتخب کونسلر حفیظ فاطمہ جو ایک اقلیتی خاتون نمائندہ ہے، پارٹی کونسلروں اور مجاز وہپ کے ساتھ انتخابی عمل میں حصہ لینے جارہی تھی اسی دوران مبینہ طور پر ڈی سی پی جنگاؤں کی قیادت میں پولیس عہدیداروں نے کونسلروں کی گاڑی کو روک لیا اور اغواء کی ایک مبینہ شکایت کا حوالہ دیتے ہوئے فاطمہ کو گاڑی سے اتاردیا۔ شکایت کے مطابق حفیظ فاطمہ نے موقع پر واضح کیا کہ وہ نہ اغواء ہوئی ہیں اور نہ ہی کسی کے دباؤ میں ہیں بلکہ اپنی مرضی سے پارٹی قیادت کے ساتھ جارہی ہوں۔ اس کے باوجود انہیں مبینہ طور پر حراست میں لے کر انتخابی عمل سے دور رکھا گیا جس سے وہ اپنا ووٹ استعمال نہ کرسکیں۔ بی آر ایس کے قائدین نے پولیس کے اس اقدام کو دستور ہند کے آرٹیکل 14 ، 15 ، 21 اور 243R کی خلاف ورزی قرار دیا۔ بی آر ایس نے الزام لگایا کہ پولیس کی اس مداخلت سے انتخابی عمل کا توازن متاثر ہوا اور جمہوری اقدار کو نقصان پہنچا۔ بی آر ایس کے قائدین نے اقلیتی کمیشن سے فوری مداخلت کرنے اور غیر جانبدارانہ انکوائری کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور ساتھ ہی ذمہ دار پولیس آفیسر کے خلاف قانونی کارروائی کرنے پر بھی زور دیا۔ بی آر ایس کے ان قائدین کا کہنا ہے کہ اگر منتخب عوامی نمائندوں کو اس طرح روکا جائے گا تو یہ جمہوریت کیلئے خطرناک نظیر ثابت ہوگی۔2