ایل او سی پر دراندازی کے واقعات میں نمایاں کمی ، آرمی نے بھاری مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود ضبط کیا : لیفٹننٹ جنرل راجو
سرینگر: آرمی کا کہنا ہے کہ جموں کشمیر میں عسکریت پسندی کے رجحان میں حالیہ چند ہفتوں کے دوران اضافہ دیکھنے میں آیا ہے لیکن اسی مدت کے دوران لائن آف کنٹرول ( ایل او سی ) کے پاس پاکستان سے دراندازی کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے ۔ فوج کا دعویٰ ہے کہ دراندازی کی کئی کوششوں کو آرمی نے ناکام بنایا اور بڑی مقدار میں مستعملہ اسلحہ و گولہ بارود ضبط کیے گئے ۔ سرینگر میں قائم فوج کی پندرہویں کور کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل بی ایس راجو نے کہا کہ کشمیری جنگجوئوں کو قومی دھارے میں واپس لانے کے لئے ’’سرنڈر پالیسی ‘‘پر کام چل رہا ہے جس کے لئے فوج نے بھی اپنی سفارشات پیش کی ہیں۔لیفٹیننٹ جنرل راجو نے یہ باتیں آج سرینگر کے مضافاتی علاقہ رنگریٹ میں واقع جموں اینڈ کشمیر لائٹ انفنٹری ریجمنٹ سنٹر کے بانا سنگھ پریڈ گرائونڈ میں منعقدہ پاسنگ آئوٹ پریڈ کی تقریب کے موقع پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہیں۔ انہوں نے کہاکہ رواں سال کے پہلے چھ ماہ میں جنگجو تنظیموں کی صفوں میں شمولیت کے رجحان میں کمی دیکھنے کو ملی تھی لیکن گذشتہ ایک ماہ کے دوران اس میں تھوڑا اضافہ ہوا ہے ۔ان کا مزید کہنا تھا :’’ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ بعض ایسے جنگجو جو سرحد کی دوسری جانب چلے گئے تھے وہ خود سپردگی اختیار کر رہے ہیں۔ ہم ان کی تفصیلات ظاہر نہیں کرتے ہیں۔ یہ امن کی طرف اشارہ ہے‘‘۔ انہوں نے کہا ہے کہ امسال لائن آف کنٹرول پر دراندازی کے واقعات میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے جس سے یہاں کے اندرونی حالات میں کافی حد تک بہتری واقع ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ سال گذشتہ 130 جنگجوؤں نے دراندازی کی تھی جبکہ امسال صرف 30 جنگجو دراندازی کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ خفیہ ایجنسیوں کے مطابق سرحد پار لانچنگ پیڈس پر بیٹھے ڈھائی تا تین سو جنگجو دراندازی کیلئے تیار ہیں۔ لیفٹننٹ جنرل راجو نے کہاکہ لائن آف کنٹرول پر حالات فی الحال کافی حد تک قابو میں ہیں۔ ہم دراندزازی کو کافی حد تک روک پائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج صبح ہی ہمارے جوانوں نے ایل او سی پر دریائے کشن گنگا کے ذریعے سامان اسمگل کرنے کی ایک کوشش کو ناکام بنا کر بھاری مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود ضبط کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی طرف سے ہتھیار بھیجنے کا مقصد کشمیری عوام کو الجھائے رکھنا ہے ۔ ایل جی راجو نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ پاکستان اپنی کارروائیوں سے باز نہیں آرہا ہے لیکن جو بھی ان کے غلط ارادے ہیں اس کا سدباب کیا جارہا ہے ۔کشمیر میں جنگجوؤں کے پاس نئے قسم کے ہتھیار نمودار ہونے کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ہتھیار، ہتھیار ہوتے ہیں۔ ایک پستول سے بھی آدمی مر جاتا ہے اور ایک اے کے رائفل سے بھی، یہ ایم 4، ایم 16 وغیرہ ہتھیار بھی اے کے 47 جیسے ہی ہیں ۔ شاید پاکستان میں زیادہ ہوگئے ہیں اس لئے یہاں بھیج رہے ہیں ۔
