عہدیداروں اور قائدین کو چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی ہدایت
حیدرآباد۔21اگسٹ(سیاست نیوز) ریاست میں جنگلاتی علاقو ںکے احیاء کے لئے عہدیدار اور منتخبہ عوامی نمائندوں کو سرگرم کردار ادا کرنا چاہئے۔ عہدیدار اس بات کا جائزہ لیں کہ کس طرح سے ریاست میں جنگلاتی علاقوں کے احیاء اور فروغ کے اقدامات کئے جاسکتے ہیں۔ شہری علاقوں بالخصوص رہائشی علاقو ںمیں کی جانے والی شجرکاری گرمی کی تمازت میں کمی کا سبب بن سکتی ہے لیکن اگر ریاست کے جنگلاتی اراضیات پر جنگلات کے فروغ کے لئے اقدامات کئے جائیں تو اس کے مثبت نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ریاست تلنگانہ کے تمام عہدیداروں کو منتخبہ عوامی نمائندوں کو ہدایت دی کہ وہ اس منصوبہ کو قابل عمل بنانے کیلئے اقدامات میں حکومت کا تعاون کریں تاکہ ریاست میں موسمی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کیا جاسکے ۔چیف منسٹر نے گجویل اسمبلی حلقہ میں تین سال قبل شروع کئے گئے جنگلاتی اراضیات کے احیاء اور فروغ کے اقدامات کا آج جائزہ لیا اور اس دوران عہدیداروں اور ضلع کلکٹرس کو ہدایت دی کہ وہ حکومت کی جانب سے معلنہ 60روزہ منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کے دوران جنگلاتی علاقوں کے احیاء اور شجرکاری کے فروغ کے اقدامات کریں۔ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے بتایا کہ ریاست میں 66.48ہیکٹر جنگلاتی اراضیات موجود ہیں لیکن ان میں صرف 23.4 فیصد اراضیات پر ہی گھنے جنگلات موجود ہیں اسی لئے حکومت کی جانب سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ ریاست میں جنگلات کے احیاء اور جنگلاتی علاقہ کے فروغ کے ذریعہ ماحولیاتی تبدیلی کے اقدامات کئے جائیں۔چیف منسٹر کے دورہ گجویل کے دوران چیف کنزرویٹر آف فاریسٹ مسز آر شوبھا اور مسٹر آر ایم ڈوبریال ایڈیشنل پی سی سی ایف نے انہیں گجویل میں جنگلاتی علاقوں کے فروغ کیلئے کئے جانے والے اقدامات اور گذشتہ تین برسوں کے دوران حاصل ہونے والی کامیابی کے متعلق واقف کرواتے ہوئے کہا کہ ریاستی محکمہ جنگلات کی جانب سے اس بات کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ چیف منسٹر نے اس موقع پر کہا کہ جنگلات کے فروغ کے ساتھ ساتھ جنگلی جانوروں کے لئے ان جنگلاتی علاقوں کو رہائش کے قابل بنانے کیلئے اقدامات کئے جائیں اور ایسے میوہ جات کے درخت لگائے جائیں جو جنگلی جانوروں کے مرغوب ہوتے ہیں۔ چیف منسٹر نے ریاستی حکومت کی جانب سے محکمہ جنگلات کو ممکنہ مدد فراہم کرنے کا تیقن دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت ماحولیاتی آلودگی کے خاتمہ کے علاوہ موسمی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے ریاست کو محفوظ رکھنے کے اقدامات پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے۔