ٹورنٹو : کینیڈا میں 600 مختلف مقامات پر جنگلات میں آگ بھڑک رہی ہے، سمندری طوفان ہلری میکسیکو اور امریکہ کے علاقوں میں شدید بارش برسائے گا، مشرق وسطیٰ میں درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ کو چھورہا ہے جب کہ یورپ کے کئی ملکوں میں سخت گرمی کا انتباہ جاری کیا گیا ہے۔ عالمی ادارہ برائے موسمیات (ڈبلیو ایم او) نے اپنی ایک رپورٹ میں انسانی اقدامات کی وجہ سے تیزتر ہونے والے رواں موسمِ گرما کے ان واقعات کو دنیا کے لیے ایک نیو نارمل یعنی نیا معمول قرار دیا ہے۔ ڈبلیو ایم او کی ترجمان کلیئر نلس نے کہا ہے کہ ایسے مناظر دنیا کے لیے اب بہت مانوس بنتے جا رہے ہیں۔ ڈبلیو ایم او کے موسمیاتی ماہر الوارو سلوا ن کے مطابق حالیہ دہائیوں میں گرمی کی لہروں اور بہت زیادہ بارشوں جیسے کئی موسمی واقعات کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے بقول یہ بات بڑے اعتماد کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج سے رونما ہونے والی آب و ہوا کی تبدیلی ان شدید موسمی واقعات کا بنیادی محرک ہے۔ محکمہ کے حکام نے رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے دنیا میں جاری موسمی واقعات اور ماحولیاتی تبدیلی میں تعلق اور ان کے اثرات پر روشنی ڈالی ہے۔