حیدرآباد۔ محکمہ جنگلات کی جانب سے ریاست کے جنگلاتی علاقو ں میں جہاں شیر پائے جاتے ہیں ان کی حمل و نقل پر نظر رکھنے کیلئے ڈرون کیمروں کو چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ شیروں کی صحیح تعداد اور ان کی آمد و رفت کے علاوہ ان کی نقل و حرکت کو قید کیا جاتا رہے۔ متحدہ ریاست آندھرا پردیش میں جنگلاتی علاقو ںمیں بڑے پیمانے پر سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کے ذریعہ ریاست میں پائے جانے والے جنگلات میں موجود جانوروں کی نقل و حرکت اور ان کی تعداد پر گہری نظر رکھنے کے اقدامات کئے گئے تھے لیکن اب تلنگانہ کے محکمہ جنگلات نے شیروں کی حمل و نقل اور ان کے قیام کے مقامات و سرحدی علاقوں میں ان کی موجودگی کی جانچ اور ان پر نظر رکھنے کیلئے جنگلاتی علاقوں میں ڈرون کیمروں کے استعمال کا فیصلہ کیا ہے۔بتایاجاتا ہے کہ محکمہ جنگلات کی جانب سے کاغذنگر ڈویژن میں کوڈا پلی اور ایلور مواضعات کے قریب موجود جنگلات میں شیروں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کیلئے ڈرون کے استعمال کا فیصلہ کیا گیا ہے۔پنچیکل پیٹ فارسٹ رینج آفیسر ایس وینوگوپال نے بتایا کہ ڈرون کے استعمال کا مقصد گھنے جنگلاتی علاقوں کے علاوہ جنگلاتی علاقوں کے درمیان موجود کھلے میدانوں میں جہاں محکمہ جنگلات کے عہدیداروں کی رسائی ممکن نہیں ہے ان مقامات پر شیروں کی نگرانی اور ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کیلئے ڈرون کیمروں کے استعمال کا فیصلہ کیا گیا ہے۔انہو ںنے بتایا کہ ان مواضعات میں انسانی جانوں کو شیروں کے حملہ سے محفوظ رکھنے کیلئے دیہی عوام میں 600 فیس ماسک کی تقسیم عمل میں لائی گئی ہے ۔ مسٹر وینوگوپال نے شہریوں اوردیہی عوام میں گھنے جنگلاتی علاقوں میں داخل ہونے سے گریز کرنے اورکسی بھی طرح کی چھیڑ چھاڑ سے پرہیز کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ گھنے جنگلات میں شیر اچانک حملہ آور ہوتے ہیں اسی لئے عوام کو جنگلاتی علاقوں میں داخل ہونے سے اجتناب کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے جنگلاتی راستوں سے گذرنے والوں کو راستے کے استعمال کے دوران آوازیں نکالنے اور چیخ و پکار کرنے کی تاکید کی اس کے علاوہ جنگل میں کپاس کے کسانوں کو بھی ایسا ہی کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ محکمہ جنگلات کی جانب سے شیروں پر نگاہ رکھنے کے اقدامات کے ساتھ ساتھ عوام میں بھی شعور اجاگر کیا جا رہاہے ۔انہوں جنگل کے راستوں کا استعمال کرنے والوں کو مشورہ دیا کہ وہ تنہاء گھنے جنگل کے راستوں سے نہ گذریں بلکہ بڑی تعدا د میں ان راستوں کا استعمال کریں تاکہ شیر جیسے جانوروں میں خوف پیدا ہو اور وہ حملہ کرنے سے گریز کریں۔