جنگی حالات دنیا کیلئے لمحہ فکریہ

   

Ferty9 Clinic

پروین کمال
یہ تحریر صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ یہ ایک تلخ حقیقت کی بنیاد پر آگے بڑھ رہی ہے ۔ آج کے جنگی حالات جو دنیا کیلئے لمحہ فکر ہیں۔ اس کا اظہار کرنا بھی یہاں ضروری ہے ۔ جنگیں سمندر کی لہروں کے مانند ہیں۔ ایک لہر ڈوبتی ہے ، دوسری ابھر آتی ہے ۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ زندگی کا یہ خوشگوار سفر افراتفری میں ہی گزر جائے گا ۔ سوجھ بوجھ رکھنے والے دماغ ایسا سوچنے پر مجبور ہیں۔ جنگوں کے حوالے سے ہر مضمون نویس جو سیاسی ، معاشی اور سماجی حالات میں دلچسپی رکھتا ہو، وہ اپنے قلم کے ذریعہ اس موضوع پر ضرور اظہار خیال کرتا ہے کیونکہ اس ترقی یافتہ دور کی یہ سب سے اہم اور قابل غور خبر ہے جس کا سلسلہ ختم نہ ہوا تو ساری دنیا ایک مہیب خطرہ سے دوچار ہوسکتی ہے۔ کہنے کو آج کی یہ جنگیں صلح صفائی کے بعد خاموشی اختیار کرگئی ہیں۔ لیکن پھر کہیں نہ کہیں شعلے پھونکنے لگتے ہیں۔ کتنے دشوار گزار راستوں سے گزر کر یہ دنیا ترقیاتی میدان میں آگے ہوئی ہے لیکن جدید ٹکنالوجی نے اس دور میں د نیا کا بیڑہ غرق کردیا ہے ۔ قابل غور بات یہ ہے کہ دوران جنگ جتنی تباہیاں ہوئی ہیں ، موازنہ کیا جائے تو بعد از جنگ اس سے کہیں زیادہ نقصانات کا سامنا کرناپڑتا ہے ۔ اگر ہم یوروپ کے تاریخی اوراق اُلٹ کر دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ انقلاب فرانس کے بعد جرمنی کے دوبارہ متحد ہونے کے واقعات عالم سطح پر گہرے تاثرات چھوڑے ہیں کیونکہ جرمنی کے متحد ہونے سے دنیا کو ایک جہتی اور امن پسندی کا درس ملا لیکن یہ سویت یونین کیلئے غیر امید اخزاء ثابت ہوا اور اس کی بنیادیں ہل گئیں۔ سویت یونین اس وقت روس کے 17 ملکوں کی ایک مضبوط اور مستحکم یونین تھی جس کے آگے سے دوسرے ملک راستہ کاٹ کر نکل جاتے تھے لیکن جب مشرقی جرمنی کی عوام جس پر روس کا قبضہ تھا وہ مغربی جرمنی سے اتحاد کرنے پر بضد ہوگئے تو دیوار برلن توڑ دی گئی اور مشرقی اور مغربی جرمنی کے عوام ایک دوسرے کے گلے لگ گئے، تب سویت یونین میں شامل ملکوں نے بھی سر اٹھایا اور یوں ڈسمبر 1922 ء میں قائم کی گئی سویت یونین کا 1991 ء میں شیرازہ بکھر گیا جس میں یوکرین بھی شامل تھا جو آج عالمی خبروں میں سرفہرست ہے ۔ یہ ایک بہت بڑا قدم تھا ۔ جو جرمنی کے اتحاد کے بعد عمل میں آیا ۔ غرض دوسری عالمی جنگ کو گزرے 80 برس کا طویل عرصہ گزر چکا ہے ۔ اب تو اس کی یادیں بھی دھندلاگئی ہیں ۔ وہ نسلیں گزر گئیں جو اس جنگ کی عینی گواہ تھیں۔ جنہوں نے دبابوں کی گڑگڑاہٹ سے در و دیوار لرزتے ہوئے سنا۔ اونچی اور قوی عمارتیں موم کی طرح پگھلتے ہوئے دیکھا ۔ ایک انسان جاں بحق، روٹی تک میسر نہ تھی ۔ یوروپ کی بس سانسیں چل رہی تھیں۔ اس پانچ سال سے زائد جنگ کا اختتام یوں ہوا کہ اتحادی فوجوں نے مداخلت کی اور جنگ کی ابتداء کرنے والے نازیوں کو ہتھیار ڈالنے پڑے ۔ یہ تھا اس جنگ سیاہ کا انجام ۔ دنیا نے سکھ کا سانس لیا ۔ تباہ شدہ ممالک نے تعمیر نو شروع کی ۔ وہ عمارتیں جو کھنڈروں کی شکل میں تبدیل ہوچکی تھیں ، اب عالیشان عمارتوں میں کھری جگمگارہی ہیں اور یوروپ پھر ایک بار دنیا کے نقشہ میں اپنا مقام پاچکا ہے لیکن ابھی اور کچھ ایسے حالات نکل آئے ہیں جس پر جنگی اثرات ابھی تک باقی ہیں۔ عقل نہیں مانتی کہ اتنے طویل عرصہ کے بعد بھی ایسا ہوسکتا ہے ۔ یہاں اس بات کا اظہار ضروری ہے کہ بعد از جنگ اُن جنگ شدہ ملکوں کو کن حالات سے گزرنا پڑا۔ کیا آپ یقین کریں گے کہ جنگ میں استعمال کیا گیا گولہ بارود آج بھی موجود ہے ۔ جو سمندروں کی تہوں میں چھپا ہوا ہے ۔ ماہرین کے مطابق جرمنی کے شمالی حصہ میں واقع ایک قصبے سے غوطہ خور سمندر میں چھلانگ لگا کر جب بحیرہ بالٹک اور بحیرہ شمالی تک پہنچے تو وہاں گہرائیوں میں جانے کے بعد عالمی جنگ کے زمانے کا گولہ بارود انہیں نظر آیا ۔ جن کے بیرونی خول زنگ آلود ہوچکے تھے اور اس سے دھماکہ خیز مواد خارج ہوکر سمندروں میں شامل ہورہا ہے ۔ ان میں چھوٹے دستی بم ، شیل اور بموں کے ٹکڑے بھی شامل ہیں ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ گولہ بارود تقریباً 106 ملین ٹن ہے جو سمندری ماحول میں زہر پھیلانے کا سبب بن رہا ہے ۔ غوطہ خوروں کی مزید تلاش سے پتہ چلا ہے کہ یہ بارودی اشیاء صرف دوسری عالمی جنگ کا ہی نہیں بلکہ یوروپ میں لڑی گئی پہلی عالمی جنگ 1914 تا 1918 کا بھی بارودی مواد اس کی تہہ میں موجود ہے ۔ اندازہ کریں کہ پہلی عالمی جنگ ہوئے 107 سال کا عرصہ بیت چکا ہے اور ابھی تک وہ زنگ آلود حالت میں موجود ہے ۔ غرض اب یہ جاننا ضروری ہے کہ سمندروں میں یہ ذخیرہ کہاں سے آیا ؟ دراصل یہ انہی جنگوں کے بدولت ہوا ہے ۔ جب جنگ کا اختتام ہوا تو بقیہ بارودی ذخیرہ اتحادی طاقتوں نے سمندر میں ڈبودیا تھا کیونکہ احتمال اس بات کا تھا کہ جرمنی اپنی شکست کے بعد بھی دوبارہ جارحیت کی کوشش کرسکتا ہے اور اس وقت وہ بہت بڑی عسکری طاقت مانا جاتا تھا ۔ اس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ جنگ شروع ہونے کے بعد پانچ سال آٹھ مہینے اور سات دن تک تمام طاقتور قوتوں کے آگے ڈٹا رہا ۔ غرض یہ ذخیرہ اتحادی افواج نے ہی سمندروں کی نذر کیا تھا جس کے زہریلے اثرات آج ظاہر ہورہے ہیں ۔ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ جنگوں کے اثرات کتنے خطر ناک ہوتے ہیں۔ خاص طور پر بعد از جنگ جو اثرات ظاہر ہوتے ہیں وہ نسل در نسل زندگیوں کے لئے تباہ کن ثابت ہوتے ہیں۔ اگرچہ کہ اس وقت ماہی گیروں کے ذریعہ کشتیوں سے مواد دونوں سمندروں سے نکالا گیا تھا لیکن تیز سمندری لہروں سے یہ بہتا ہوا سمندری تہوں میں ہر طرف پھیل گیا اور زنگ آلود حالت میں ابھی تک موجود ہے جو سمندری زندگی کیلئے انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے ۔ اتحادی فوجوں کے بم آج بھی کسی نہ کسی محلے میں کھدائی کے دوران نکل آتے ہیں ۔ احتیاطی تدابیر کے تحت بستیاں خالی کروادی جاتی ہیں۔ لوگ ایک دوسرے سے گلے مل کر رو پڑتے ہیں کہ کہیں زمین سے باہر آتے ہوئے بم اپنی اصلیت نہ دکھا جائے لیکن ابھی تک ایسا ہوا نہیں ۔ حکومتیں اسی تگ ودو میں لگی ہوئی ہیں کہ سمندروں کو کسی طرح زہریلے اثرات سے پاک کیا جائے تاکہ سمندری زندگیوں کو صحت ملے۔