جنگ آزادی میں مسلمان 19 ویں صدی کے اختتام تک میر کارواں رہے

   

مسلمانوں نے جنگ کو مقدس مذہبی فریضہ سمجھا: مولانا الرحیم مجددی
نئی دہلی/ جے پور، 18اگست (یو این آئی) جنگ آزادی میں مسلمانوں کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری اور جامعہ ہدایہ جے پور کے سربراہ مولانا فضل الرحیم مجددی نے کہاکہ جنگ آزادی میں مسلمان 19 ویں صدی کے اختتام تک اس کے میر کارواں بنے رہے ۔یہ بات انہوں نے جامعہ ہدایہ میں آزادی کی تقریبسے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں نے اس جنگ کو ایک مقدس مذہبی فریضہ کی طرح لڑا۔ اپنے جان مال، عیش و آرام اور عہدوں کو آزادی کی بھینٹ چڑھا دیا، ہنستے کھیلتے خوشی خوشی پھانسی کے پھندوں پر جھول گئے ۔ علماء نے اس میں کلیدی رول ادا کیا۔افسوس کہ عصر حاضر کے متعصب مورخین سیکولر اور مسلم مجاہدین کے کردار مسخ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہے ہیں۔ غدر سے پہلے حیدر علی اور ٹیپو سلطان نے انگریزوں سے چار جنگیں لڑیں اور بالاخر جام شہادت نوش فرمایا۔جنرل ہارس کو جب آپکی شہادت کی خبر ملی تووہ خوشی کے مارے پھولے نہیں سما رہا تھا۔ پھر ٹیپو کی نعش پر کھڑے ہوکر بولا کہ آج سے ہندوستان ہمارا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایک عام شہری کے لئے آزادی کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی بات کہنے کا حق استعمال کر سکے ، آزادیئ اظہار سے لطف اندوز ہو سکے ، اپنی مرضی کے مطابق کھانے کا انتخاب کر سکے ، اپنی پسند کا لباس پہن سکے وغیرہ۔ ہمارا آئین ہمیں یہ تمام حقوق دیتا ہے اور کسی بھی بنیاد پر۔چاہے وہ مذہب ہو،نسل، ذات، جنس، زبان ہو۔کوئی امتیاز ر وا نہیں رکھتا۔انہوں نے دعوی کیا کہ موجودہ وقت میں یہ تمام حقوق حکومت اور اسکے اداروں کی طرف سے شدید حملوں کی زد میں ہیں۔ ایک ایسا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے جہاں انسان اپنی پسند یا نا پسند کے مطابق چیزوں کا انتخاب کرنے میں آزاد نہیں، بلکہ ایک مخصوص انداز فکر سب پر مسلط کیا جا رہا ہے ۔اسکی مزاحمت کی جانے پر یا اس ڈگر سے ہٹ کر چلنے پرانجام کچھ بھی ہو سکتا ہے ۔ایک پر تشدد ہجوم جسے سیاسی حمایت حاصل ہوتی ہے ، اپنی مرضی کا نفاذ کر دیتا ہے اور آپ اسکا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے ۔یہ دراصل کوئی خود رو ہجوم نہیں ہوتابلکہ منظم گروہ ہوتا ہے جسکا مقصد خوف کا ماحول پیدا کرنا ہوتا ہے تاکہ لوگوں کی ترجیحات ایک خاص سمت میں متعین ہو جائیں۔ مولانا مجددی نے کہا کہ حیرت کی بات ہے کہ شہریوں کی آزادی اور حقوق پر یہ حملے ’ملک‘ اور ’قوم پرستی‘ کے نام پر کئے جا رہے ہیں۔قوم پرست بننے کے لئے ایک خاص تہذیب کو اپنانا ضروری قرار دیا جا رہا ہے ۔آپ کو ان تصورات کو ماننا لازمی ہے ۔ آپ کو بتایا جاتاہے کہ ایک قوم کی تشکیل کیسے ہوتی ہے اور اسکے ‘پہلے درجے کے شہری’کون ہو سکتے ہیں۔ اگر کوئی شخص ان تصورات کومعقول اور منطقی بنیادوں پر چیلنج کرنے کی کوشش کرے تو اسے ’غدار‘ یا ’ملک دشمن‘ قرار دیا جا سکتا ہے۔
یہ سب ایک ایسے ملک میں ہو رہا ہے جواپنے ثقافتی تنوع کے لئے مشہور ہے جس نے ‘کثرت میں وحدت’ کے اصول کوطویل عرصے تک کامیابی کے ساتھ محفوظ رکھا ہے ۔ صرف ایک ہی قسم کی ثقافت سب پر مسلط کرنے کی سعی مسلسل جاری ہے جو بنیادی طور پراکثریتی طبقے کی ضروریات اور پسند پر مبنی ہے ۔