جنگ بدر‘ ایمان ‘قیادت اور حق کی فتح کا تاریخی پیغام

   

کل ہند مجلس تعمیر ملت ضلع گلبرگہ کے زیر اہتمام تیسرا قرآنی مذاکرہ ۔ مولانا شیخ سلیم الدین نظامی ودیگرکا خصوصی خطاب

گلبرگہ 11مارچ(سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)جی ۔ ایم محمودکی اطلاع کے بموجب تعمیرملت شاخ گلبرگہ کے زیراہتمام تیسرے قرآنی مذاکرہ کا انعقادمسجد عمر فاروق یداللہ کالونی میںعمل میںآیا۔ کل ہند مجلس تعمیر ملت ضلع گلبرگہ نئی نسل کو یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ وہ اپنا رشتہ قرآن اور صاحب قرآن سے مضبوط کرلیں، اور یہ عہد کرلیں کہ ہم قرآن مجید کی تلاوت کو سمجھ کر پڑھنے کی کوشش کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار قاضی رضوان الرحمن صدیقی مشہود نائب صدر کل ہند مجلس تعمیر ملت ضلع گلبرگہ نے تیسرے قرآنی مذاکرہ بعنوان جنگ بدر سے فتح مکہ تک کے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ قاضی رضوان الرحمن صدیقی نے اپنے بیان میں مزید فرمایا کہ تعمیر ملت ضلع گلبرگہ کے زیر اہتمام یہ قرآنی مذاکرات ان شائاللہ آئندہ سال بھی شاندار پیمانہ پر منعقد کیے جائیں گے۔ ابتدا میں قاری صدیق حسین صاحب کی قرآء ت کلام پاک و جناب غلام جیلانی، جناب مبین احمد زخم ، بزرگ نعت خواں محمد مظہر احمد گرمیٹکلی نے نذرانہ نعت بیش کیا ۔جبکہ جناب سید نذیر الدین متولی نائب صدر کل ہند مجلس تعمیر ملت ضلع گلبرگہ ، سید مقبول احمد صاحب صدر انتظامی کمیٹی مسجد عمر فاروق بحشیت مہمانان خصوصی شرکت فرمائی ۔جناب علائالدین محمد اکبر معتمد عمومی تعمیر ملت نے بحسن و خوبی نظامت کے فرائض انجام دیئے۔ممتاز عالمِ دین حضرت مولانا شیخ سلیم الدین نظامی صدرگلبرگہ سنی اماس اسوسی ایشن کرناٹک نے اپنے عالمانہ خطاب سے جنگ بدر سے فتح مکہ تک کے عنوان پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ جنگِ بدر ایمان، قیادت اور حق کی فتح کا تاریخی پیغام ہے اسلامی تاریخ میں بعض واقعات ایسے ہیں جو محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایمان، عزم اور حق و باطل کے درمیان واضح خطِ امتیاز کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جنگِ بدر بھی ان ہی عظیم واقعات میں سے ایک ہے۔ یہی وہ دن ہے جسے قرآن کریم نے “یوم الفرقان” قرار دیا، یعنی وہ دن جب حق اور باطل کے درمیان واضح فرق قائم ہو گیا۔ مولانا شیخ سلیم الدین نظامی نے اپنے خطاب کو جارہی رکھتے ہوئے کہا کہ اسی پس منظر میں رسول اکرم ﷺ نے قریش کی معاشی طاقت کو کمزور کرنے کے لیے ان کے تجارتی قافلوں کو روکنے کا منصوبہ بنایا۔ مکہ کی معیشت کا بڑا حصہ شام کی تجارت پر منحصر تھا، اور یہ قافلے مدینہ کے راستے سے گزرتے تھے۔ اتفاق سے قریش کا ایک بڑا تجارتی قافلہ شام سے واپس مکہ جا رہا تھا جس کی قیادت ابوسفیان کے ہاتھ میں تھی۔ جب اسے مسلمانوں کی ممکنہ کارروائی کا علم ہوا تو اس نے فوری طور پر مکہ پیغام بھیجا کہ قریش اپنے قافلے کی حفاظت کے لیے نکلیں۔ مولانا نظامی نے اپنے بیان کو جاری رکھتے ہوئے مزید فرمایا کہ جنگ سے پہلے رسول اللہ ﷺ نے پوری رات اللہ تعالیٰ کے حضور دعا اور گریہ و زاری میں گزاری۔ آپ ﷺ بارگاہِ الٰہی میں عرض کر رہے تھے: “اے اللہ! اگر آج یہ مٹھی بھر جماعت ہلاک ہو گئی تو روئے زمین پر تیرا نام لینے والا کوئی نہ رہے گا۔” یہ دعا دراصل اس جنگ کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔ بدر صرف ایک جنگ نہیں تھی بلکہ اسلام کے مستقبل کا فیصلہ کن مرحلہ تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس موقع پر مسلمانوں کی غیر معمولی مدد فرمائی۔ شیخ سلیم نظامی نے کہا کہ جب جنگ شروع ہوئی تو تعداد میں کم ہونے کے باوجود مسلمانوں نے بے مثال بہادری کا مظاہرہ کیا۔ کفارِ قریش کے بڑے بڑے سردار اسی میدان میں مارے گئے اور بالآخر مسلمانوں کو شاندار فتح حاصل ہوئی۔ اس طرح جنگِ بدر اسلام کے لیے ایک تاریخی موڑ ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوئی۔ اس فتح کے بعد مسلمانوں کا رعب پورے عرب میں قائم ہو گیا اور اسلام کی دعوت تیزی کے پھیلنے لگی۔انہوں نے آخر میں کہا کہ اس جنگ سے ہمیں کئی اہم اسباق ملتے ہیں۔ سب سے اہم سبق یہ ہے کہ کامیابی کا دارومدار صرف وسائل اور تعداد پر نہیں بلکہ ایمان، اتحاد اور مضبوط قیادت پر ہوتا ہے۔ بدر کے مجاہدین کا مقصد محض دنیاوی مفاد نہیں بلکہ دین کی سربلندی تھا، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے انہیں کامیابی عطا فرمائی۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج جب ہم دنیا کے حالات پر نظر ڈالتے ہیں تو ایک تلخ حقیقت سامنے آتی ہے۔ مسلمانوں کی تعداد کروڑوں میں ہے اور درجنوں اسلامی ممالک موجود ہیں، مگر اس کے باوجود مسلمان کئی میدانوں میں کمزور نظر آتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ اتحاد کی کمی، مضبوط قیادت کا فقدان اور دین سے عملی دوری ہے۔محمد صدیق حسین ، اور جناب سید مقبول احمد صاحب صدر انتظامی کمیٹی کی خدمت میں شال پوشی پیش کی گئی ۔صلوٰۃ و سلام کے بعد جناب محمد مجیب علی خان معتمد تنظیمی امور تعمیر ملت کے شکریہ کے ساتھ اجلاس کا اختتام عمل میں آیا اس موقع پر انتظامی کمیٹی کے عہدے داران ذمہ داران کے علاوہ علم دوست شخصیات نے شرکت فرما کر قرآنی مذاکرے کو بیحد کامیاب بنایا۔