بیروت : فلسطینی عسکری تنظیم حماس نے کہا ہے کہ اسے جنگ بندی تجاویز پر اسرائیل کی جانب سے ہفتہ کو جواب ملا ہے جس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ حماس کے غزہ کے ڈپٹی چیف خلیل الحیہ کے مطابق حماس نے 13 اپریل کو مصری اور قطری ثالثوں کے ذریعہ اسرائیل کو جنگ بندی تجاویز پیش کی تھیں جس کا جواب ہفتہ کو موصول ہوا ہے۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل کی تجاویز پر جائزہ لینے کے بعد کوئی جواب دیا جائے گا۔ گزشتہ کئی ماہ سے امریکہ، مصر اور قطر کی ثالثی میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کی کوشش کی جا رہی تھی۔ تاہم اب تک کوئی بھی کوشش کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔ حماس اپنے مطالبے پر قائم ہے کہ مکمل جنگ بندی تک کوئی بھی معاہدہ نہیں ہو سکتا جب کہ اسرائیل حماس کے مطالبے کو مسترد کر چکا ہے۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نتن یاہو کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کو اسرائیل کی شکست تصور کیا جائے گا، اس لیے غزہ سے حماس کا صفایا ضروری ہے۔ مصر کے ثالثوں پر مشتمل ایک وفد نے جمعہ کو اسرائیل کا دورہ بھی کیا تھا جہاں انہوں نے اسرائیلی حکام سے ملاقاتیں بھی کی ہیں۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایک ذمہ دار عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ جنگ بندی سے متعلق اسرائیل کی کوئی نئی تجویز نہیں ہے۔ البتہ وہ عارضی جنگ بندی کا خواہش مند ہے اور وہ چاہتا ہے کہ حماس 33 یرغمالوں کو رہا کر دے۔ اس سے قبل اسرائیل کی جانب سے 40 یرغمالوں کی بات کی گئی تھی۔ حماس کے غزہ کے ڈپٹی چیف نے بھی حال ہی میں خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ حماس اسرائیل کے ساتھ پانچ سال یا اس سے زیادہ عرصہ کی جنگ بندی پر راضی ہونے کے لیے تیار ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے ساتھ ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم ہوتی ہے تو حماس ہتھیار ڈال دے گی اور ایک سیاسی جماعت میں تبدیل ہو جائے گی۔ واضح رہے کہ گزشتہ برس 7 اکتوبر کو حماس نے اسرائیل پر حملہ کر کے لگ بھگ 1200 افراد کو ہلاک اور تقریباً 250 یرغمال بنا لیا تھا۔ حماس کے حملہ کے بعد سے شروع ہونے والی جنگ میں غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق 34 ہزار سے زیادہ فلسطینی مارے جا چکے ہیں جن میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔